پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی حراست میں لے کر پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت مناسب انضباطی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
میں نے گرفتاری سے قبل کارکنان کو جی ایچ کیو کے سامنے پرامن احتجاج کی ہدایت کی تھی، جب پارٹی چیئرمین کو رینجرز اغواء کر کے لے جائے گی تو پھر کارکنان جی ایچ کیو کے سامنے ہی احتجاج کریں گے، ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ لانے سے بہتر ہے کہ پاکستان میں سیدھا سیدھا مارشل لاء لگا دیں۔
مسلح افواج میں سب سے پہلے قرآن کا حلف ایوب خان نے توڑا، ایوب خان کی لاش کو قبر سے نکال کر پھانسی پر لٹکا دینا چاہیے، عمر ایوب جیسے لوگوں نے اتنی بار ولدیتیں بدلی ہیں کہ اب انہیں اپنی تمام ولدیتیں بھول چکی ہیں، وزیرِ دفاع خواجہ آصف۔
فیض آباد دھرنا کمیشن کی رپورٹ مایوس کن ہے، ایسا لگتا ہے کہ رپورٹ صرف جنرل (ر) فیض حمید کو کلین چِٹ دینے کیلئے بنائی گئی ہے، اگر فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلہ پر عملدرآمد ہوتا تو 9 مئی کا سانحہ پیش نہ آتا۔
پاک فوج نے سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف نجی ہاوسنگ سوسائٹی کے مالک کی درخواست پر انکوائری کا آغاز کر دیا ہے، جنرل (ر) فیض حمید پر الزام ہے کہ انہوں نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے خلاف دورانِ ملازمت اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا تھا۔
Zulfikar Bukhari's remarks to Reuters, describing a freed Imran Khan as unwilling to confront army chief Asim Munir, don't just shift PTI's tone. Coming from one of Khan's closest aides, they quietly kill the "dut kar khara hai kaptaan" promise that has held the party's base together for two years.
The Supreme Court has ordered the transfer of Imran Khan from Adiala Jail to Shifa International Hospital for medical assessment and treatment, while directing that his health condition should not be used for political activity or media campaigning.
Countries do not enter mutual defence commitments with partners whose reliability they doubt, because the cost of misjudging that is measured in soldiers. Riyadh and Ankara have decided Pakistan is a state whose word will hold when it is expensive to hold it.
Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔