فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران جنگ بندی کیلئے سفارتکاری میں مرکزی کردار بن کر ابھرے ہیں اور پاکستان کی ابھرتی سفارتی اہمیت کا اہم چہرہ بن چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آج پاکستان کو وائٹ ہاؤس تک جو رسائی حاصل ہے وہ پہلے کبھی میسر نہ تھی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال، پاکستان کی جانب سے مشکل حالات میں سعودی عرب کیلئے مکمل یکجہتی و حمایت کا اظہار، وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ترکیہ کے آرمی چیف سے ٹیلیفونک گفتگو؛ دونوں ممالک کے باہمی دفاعی تعلقات، خطہ میں بڑھتی کشیدگی اور بدلتی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فیلڈ مارشل کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات کے بعد یہ رابطہ اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہِ سعودی عرب اور پاکستانی سفارتکاری کے مثبت اثرات؛ ایران نے پڑوسی ممالک پر حملے روکنے کا اعلان کر دیا۔ پاکستانی فوجی سربراہ اور سعودی وزیرِ دفاع کی ملاقات کو طاقت کے توازن و ردعمل کے امکانات میں ڈیٹرینس سگنل کے طور پر دیکھا گیا۔
پاکستان نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کر لیا۔ اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ جب تک افغان سرزمین سے سرحد پار دہشتگردی میں ملوث عناصر کی پناہ گاہیں اور پشت پناہی ختم نہیں ہوتی تب تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبہ کے تمام شہروں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا اعلان کر دیا۔ اورنج لائن ٹرین، میٹروبس سروس، سپیڈو بس اور گرین الیکٹرو بس میں سفر کیلئے ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا۔ کاشت کاروں کیلئے ڈیزل سبسڈی کا بھی اعلان کر دیا گیا۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔
Just before Donald Trump was due to address the nation on the Middle East conflict, Iran’s President Masoud Pezeshkian published an open letter to Americans, arguing that Tehran is being falsely cast as a threat and warning that more attacks will bring only suffering, instability and lasting resentment.