Speaking to religious scholars in Islamabad, Prime Minister Shehbaz Sharif said Pakistan will not progress through “magic” or shortcuts but through hard work, unity and respect for the armed forces. He hailed the army’s performance against India, urged clerics to fight sectarianism and argued that tough decisions by political and military leaders have helped pull the economy back from the edge of default.
پاکستان نہ جادو ٹونے سے آگے بڑھ سکتا ہے، نہ انتشار اور فرقہ واریت کے سہارے۔ اس کے لیے سخت محنت اور قومی یکجہتی ناگزیر ہے۔ بھارت کے خلاف معرکۂ حق میں افواجِ پاکستان کی جرات مندانہ فتح نہ صرف پوری قوم بلکہ ہمارے دوست اور برادر ممالک کے لیے بھی باعثِ فخر ہے۔ فوج کے خلاف ہونے والے ہر پراپیگنڈے کا مؤثر جواب دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
پاک بحریہ دشمن کیلئے سمندر میں سیسہ پلائی دیوار اور ملکی بحری سرحدوں پر آہنی فصیل ہے، پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر اپنی خودمختاری اور دفاع کیلئے عزمِ محکم رکھتا ہے۔
معرکہِ حق میں افواجِ پاکستان نے مُلک کا عالمی وقار بڑھایا، ہماری طاقت قومی وحدت ہے۔ پاکستان آرمی کیلئے ملکی سالمیت، سیکیورٹی اور ہر پاکستانی کا تحفظ اوّلین ترجیح ہے۔ پاکستان اپنا اصل مقام ضرور حاصل کرے گا، دشمن کے عزائم کا ناکام بنائیں گے۔
پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان نے ہمیشہ دوستی اور یکجہتی کا ثبوت دیا اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ تینوں ممالک کے عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ بھارت کے ساتھ جنگ میں ترکیہ اور آذربائیجان کی حکومتیں پاکستان کے ساتھ کھڑی رہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے ایک روزہ دورے کے بعد صرف چوبیس گھنٹے میں دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جس سے پاکستان کا کردار تیز رفتار علاقائی سفارت کاری میں مزید نمایاں ہو گیا ہے۔ ان کی فوری واپسی اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں اب ایک اہم اور ممکنہ طور پر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
Iran’s Abbas Araghchi is back in Islamabad within around 24 hours of leaving for Muscat, keeping Pakistan at the centre of high-stakes US-Iran diplomacy.
Trump has cancelled his representatives’ planned trip to Islamabad for talks with Iran, saying too much time was being spent on travel and that Tehran can contact Washington directly if it wants negotiations.
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات۔عراقچی نے کہا کہ پاکستان ایران کی خارجہ پالیسی میں خاص اہمیت رکھتا ہے،مذاکرات میں جنگ بندی، علاقائی امن اور پاک ایران تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi met Prime Minister Shehbaz Sharif in Islamabad, describing Pakistan as holding a significant place in Tehran’s foreign policy outlook while briefing Pakistan’s leadership on ceasefire developments, regional stability and bilateral cooperation.