Israel and Hamas have agreed on a four-day ceasefire starting Thursday at 10 AM local time, including a hostage-prisoner exchange and a significant influx of humanitarian aid into Gaza. The truce, aimed at de-escalating the conflict, involves complex negotiations brokered by Qatar with U.S. and Israeli involvement.
A breakthrough peace deal between Hamas and Israel is expected within just a few hours, confirm U.S. president Joe Biden, Israeli prime minister Benjamin Netanyahu, and Hamas chief Ismail Haniyeh, in order to bring a potential end to the Gaza conflict and hostage crisis.
غزہ بچوں کا قبرستان بن چکا ہے، اب تک 5 ہزار سے زائد بچے شہید ہو چکے ہیں، دو ہفتوں کے دوران الشفاء ہاسپٹل ایمرجنسی روم میں 1500 سے زائد "نامعلوم ٹراما چائلڈ" رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ غزہ میں بچے رات کو چیخ چیخ کر کہتے ”ہم مرنے والے ہیں، ہمیں بچا لیں، ہم مرنا نہیں چاہتے“۔
Iran reaffirms political and moral support for Hamas but rules out military intervention during a recent meeting between Ayatollah Ali Khamenei and Ismail Haniyeh.
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال، پاکستان کی جانب سے مشکل حالات میں سعودی عرب کیلئے مکمل یکجہتی و حمایت کا اظہار، وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔
أكدت باكستان أنها ستقف إلى جانب السعودية في حال وقوع هجمات إيرانية، مهما كانت الظروف ومهما كان التوقيت. وبحسب بلومبرغ، فإن العلاقة بين الرياض وإسلام آباد قامت دائماً على مبدأ الوقوف المشترك في أوقات الأزمات والتحديات.