فیض حمید آئی ایس آئی کے متوازی اپنے سسٹم کے تحت ریاست کے چاروں ستونوں کو کنٹرول کرتے تھے، فیض حمید اور عمران خان نے کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کو پاکستان میں بسایا، فیض حمید نے جیو نیوز کی نشریات بند کر کے کہا کہ نواز شریف کو چور کہو۔
ہم جب بھی نکلتے پیں سر پر کفن پہن کر نکلتے ہیں، عمران خان کے صبر اور ظرف کی وجہ سے یہ لوگ ایوانوں میں بیٹھے ہیں ورنہ ہم ان کا وہ حال کرتے کہ ان کی نسلیں یاد رکھتیں، اب اسلام آباد میں 8 ستمبر کو جلسہ ہو گا۔
فیض حمید کا ٹرائل بہرصورت فوجی عدالت میں ہو گا، فوجی عدالت میں سابق جنرل کا ٹرائل اوپن نہیں ہوتا لیکن اگر عمران خان کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہوا تو اوپن ہو گا، قوم کو معلوم ہونا چاہیے کہ عمران خان کا 9 مئی میں کیا کردار تھا۔
برطانوی حکومت میری رہائی کیلئے عالمی سطح پر آواز بلند کرے، مجھے دہشتگردوں اور سزائے موت والے مجرموں کے ڈیتھ سیل (سات بائی آٹھ فٹ) میں رکھا گیا ہے، مسلسل نگرانی کی جارہی ہے، عوام تبدیلی اور جمہوریت کیلئے ترس رہے ہیں۔
جنرل (ر) فیض حمید پر ریٹائرمنٹ کے بعد فوج میں بغاوت اور 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد سامنے آنے پر سزا دیے جانے کا امکان ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔
Iranian President Masoud Pezeshkian will visit Pakistan on June 23 for a one-day official trip following Pakistan and Qatar’s mediation in the latest Iran-US talks in Switzerland.
Pakistan’s role at the Lake Lucerne Summit marked a rare diplomatic success, placing Islamabad alongside Qatar as a mediator in the US-Iran process. Shehbaz Sharif gave the effort political direction, while Field Marshal Asim Munir added security credibility.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔