حکومت نے پاکستان تحریکِ انصاف پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جائے گی جبکہ عمران خان، عارف علوی اور قاسم سوری کے خلاف آرٹیکل 6 کا مقدمہ چلایا جائے گا۔
نیب نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی نئے توشہ خانہ ریفرنس میں گرفتاری ڈال دی، ڈپٹی ڈائریکٹر نیب محسن ہارون کی سربراہی میں نیب ٹیم نے دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
سپریم کورٹ نے آئین کو از سر نو تحریر کیا اور فیصلے کی ہوم ڈلیوری کی۔ یہ ہوم ڈلیوری اس فریق کو کی گئی ہے جو کیس میں فریق ہی نہیں تھا۔ آئین کو دوبارہ لکھنے، بدلنے اور ترمیم کرنے کا حق صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف دورانِ عدت نکاح کیس میں سزاؤں کے خلاف اپیلز کو منظور کرتے ہوئے سات سات برس قید کی سزاؤں کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے، مختصر فیصلے میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بری کر دیا گیا۔
تحریکِ انصاف مخصوص نشستوں کے حصول کی مستحق ہے، تحریکِ انصاف 15 روز میں مخصوص نشستوں کے افراد کی فہرست دے، سنی اتحاد کونسل نے الیکشن 2024 میں حصہ نہیں لیا، سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی مستحق نہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔
Iranian President Masoud Pezeshkian will visit Pakistan on June 23 for a one-day official trip following Pakistan and Qatar’s mediation in the latest Iran-US talks in Switzerland.
Pakistan’s role at the Lake Lucerne Summit marked a rare diplomatic success, placing Islamabad alongside Qatar as a mediator in the US-Iran process. Shehbaz Sharif gave the effort political direction, while Field Marshal Asim Munir added security credibility.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔