عمران خان ڈِگّی میں چھپ کر گیا اور جنرل اعجاز امجد کے گھر پر جنرل باجوہ کے گِٹّوں کو ہاتھ لگائے، اب یہ کسی اور کے گِٹّے پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ 9 مئی اور آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط کی معافی مانگیں، عمر ایوب ماضی میں چمچہ گیری کرتا رہا ہے۔
تحریکِ انصاف نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نیب ترامیم کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کی جانب سے کمرہِ عدالت میں کی گئی گفتگو کی آڈیو جاری کر دی۔
مشرف صاحب اس دنیا سے جاچکے ہیں، اللہ تعالی انہیں معاف فرمائیں، لیکن قوم کو سوچنا چاہیے کہ کس نے قوم کے ساتھ کیا کیا ہے۔ عمران خان نے میرے اے سی اترانے کی بات کی، مگر میں انتقام کی سیاست نہیں کرتا۔ ملک میں مہنگائی میری وجہ سے نہیں، اگر مجھے نہ نکالا جاتا تو غربت اور بیروزگاری نہ ہوتی۔ شہباز شریف اور مریم نواز کی محنت سے روز مرہ اشیاء کی قیمتیں کم ہورہی ہیں، جو قابل تحسین ہے۔
Imran Khan's jail cell, equipped with luxuries like an LED TV, cooler, private kitchen, and library, starkly contrasts with his own past directives to remove such privileges for prisoners like Nawaz Sharif, illustrating the irony and political complexities of his incarceration despite being involved in cases for selling state properties, and misusing his authority while in power in a show of financial misconduct.
کیا ججز کو آئین و قانون کی بجائے پاپولزم کی بنیاد پر فیصلے کرنے چاہئیں؟ کیا کسی مجرم کو اس بنیاد پر ماورائے قانون ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے کہ اس کے ملین فالورز ہیں؟ پاپولزم کی بنیاد پر کیے گئے فیصلے عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری پر بھی سوالات بن کر سامنے آتے ہیں۔
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
Pakistan received $3.5 billion in workers’ remittances in April 2026, with Saudi Arabia and the UAE leading inflows and cumulative FY26 remittances reaching $33.9 billion.