Prime Minister Shehbaz Sharif and Field Marshal Asim Munir meet President Donald Trump in Washington for high-level talks on Pakistan–US relations, security, Middle East peace and investment opportunities as Trump praises Pakistan’s leadership and receives an invitation to visit Pakistan.
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات، دورۂ پاکستان کی دعوت۔ دوطرفہ تعلقات، مشرقِ وسطیٰ میں امن اور نئی سرمایہ کاری پر اہم بات چیت، شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کو امن کا علمبردار جبکہ صدر ٹرمپ نے دونوں رہنماؤں کو عظیم قرار دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات، علاقائی اورعالمی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال۔ صدر ٹرمپ نے دونوں رہنماؤں کوعظیم قراردے دیا۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، امریکی نائب صدر اور سیکرٹری خارجہ کی بھی شرکت۔
نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے اسرائیل کے فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قطر کی خودمختاری اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ کاسلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلانے، انسانی حقوق کونسل میں فوری بحث اور دوحہ میں غیر معمولی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کی حمایت کا اعلان۔
Ishaq Dar, as Pakistan's foreign and deputy prime minister, resisted the urge, so common in crises, for maximalist posturing. He did not parade diplomatic telegrams for public approval. He did not pick Twitter fights. He kept Pakistan’s tone serious and sober.
Pakistan says the United States and Iran have expressed confidence in its role as a potential facilitator for talks, with Islamabad saying it would be honoured to host negotiations in the coming days.
امریکا و ایران دونوں نے ممکنہ مذاکرات میں سہولت کاری کیلئے پاکستان پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ پاکستان آئندہ چند روز میں ممکنہ مذاکرات میں میزبانی و سہولتکاری کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزراءِ خارجہ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے خطہ میں امن کیلئے پاکستانی کوششوں کی بھرپور حمایت اور تائید کی۔
امریکا ایران کو مذاکراتی عمل تک لانے والا پاکستان سفارتی محاذ پر غیر معمولی اہمیت حاصل کر رہا ہے جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار نمایاں ہے۔ پاکستان خطہ کے توازن پر اثرانداز ہوتے ہوئے واشنگٹن، تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان پُل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
Pakistan is preparing to host the foreign ministers of Saudi Arabia, Turkey and Egypt for bilateral meetings and a four-country diplomatic session in Islamabad that is expected to conclude with a joint communiqué and possibly a meeting with Prime Minister Shehbaz Sharif.
مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ اتوار کی صبح، سعودی وزیرِ خارجہ سہ پہر پاکستان پہنچیں گے۔ شام کو چاروں وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات ہو گی جبکہ عشائیہ کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔