پاکستان نے طاقت کے مظاہرے کے بعد سفارتکاری سے اپنا مؤقف منوایا اور خطے کا نیا نارمل اپنی شرائط پر قائم کر دیا۔ دوحہ میں اسلام آباد کا واحد مطالبہ تھا کہ افغان سرزمین سے پاکستان مخالف دہشت گردوں کی حمایت بند کی جائے، اور اگر وہاں سے حملے ہوئے تو ذمہ دار کیمپ جائز ہدف سمجھے جائیں گے۔
Pakistan and Afghanistan agreed to an immediate ceasefire during Qatar and Türkiye-mediated talks in Doha, pledging to end cross-border violence and respect each other’s sovereignty, with follow-up meetings in Istanbul aimed at building a framework for lasting regional peace.
پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوری سیز فائر معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کی باضابطہ تصدیق قطر کی وزارتِ خارجہ نے کر دی ہے۔ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں قطر اور ترکیہ نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے سفارتی مہارت سے ثابت کیا کہ ٹرمپ جیسے طاقتور رہنما سے کیسے مؤثر انداز میں ڈیل کی جاتی ہے۔ غزہ جنگ بندی کے بعد ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اپنا “پسندیدہ فیلڈ مارشل” قرار دیا، جبکہ واشنگٹن اسلام آباد کو خطے میں اہم شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
پاکستانی سر زمین پر مقیم تمام افغانیوں کو اب اپنے وطن جانا ہوگا، اب احتجاجی مراسلات اور امن کی اپیلیں نہیں ہونگی۔ اور کابل نمائندہ وفد بھی نہیں بھیجا جائے گا۔ جہاں بھی دہشت گردی کا منبع ہو گا، اسے بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ غزہ کے علاوہ دیگر بین الاقوامی تنازعات تک وسعت کی تجویز بھارت کیلئے کشمیر کے حوالہ سے پریشان کُن ثابت ہو سکتی ہے۔