پاکستان اور افغانستان میں فوری سیز فائر پر اتفاق، قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں دوحہ مذاکرات کامیاب

پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوری سیز فائر معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کی باضابطہ تصدیق قطر کی وزارتِ خارجہ نے کر دی ہے۔ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں قطر اور ترکیہ نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔

Pakistan and Afghanistan have agreed to an immediate ceasefire following successful negotiations in Doha mediated by Qatar and Türkiye. — FILE
Pakistan and Afghanistan have agreed to an immediate ceasefire following successful negotiations in Doha mediated by Qatar and Türkiye. — FILE
یہ تحریر سنیںپاکستان اور افغانستان میں فوری سیز فائر پر اتفاق، قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں دوحہ مذاکرات کامیاب3 منٹ · آلے کی آواز0:00 / 2:43

دوحہ (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوری سیز فائر معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کی باضابطہ تصدیق قطر کی وزارتِ خارجہ نے کر دی ہے۔ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں قطر اور ترکیہ نے ثالثی کا کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک نے نہ صرف جنگ بندی پر اتفاق کیا بلکہ پائیدار امن اور استحکام کے لیے آئندہ ملاقاتوں کے نظام پر بھی رضا مندی ظاہر کی۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اپنی ایکس (ٹوئٹر) پوسٹ میں کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر افغانستان سے دہشت گردی کا سلسلہ فی الفور بند ہو گا، دونوں ہمسایہ ملک ایک دوسرے کی سرزمین کا احترام کریں گے، الحمدللہ۔ 25 اکتوبر کو استنبول میں دونوں ممالک کے وفود دوبارہ ملاقات کریں گے اور تفصیلی معاملات پر بات چیت ہو گی۔ ہم قطر اور ترکیہ، دونوں برادر ممالک کے تہِ دل سے شکر گزار ہیں۔

قطری وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان فوری جنگ بندی اور دیرپا امن کے لیے عملی اقدامات پر اتفاق ہوا۔ قطر نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ پیش رفت دونوں برادر ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کی مضبوط بنیاد فراہم کرے گی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں فریقین آئندہ چند دنوں میں مزید ملاقاتیں کریں گے تاکہ سیز فائر کے تسلسل اور مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔” قطر کی وزارتِ خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ قدم پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں بہتری اور خطے میں دیرپا استحکام کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو گا۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کا پہلا دور دوحہ میں قطری انٹیلی جنس چیف عبداللہ بن محمد الخلیفہ کی میزبانی میں ہوا، جس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کی۔ پاکستانی وفد میں اعلیٰ سیکیورٹی حکام بھی شامل تھے جنہوں نے مذاکرات میں معاونت کی۔

افغان وفد کی قیادت وزیرِ دفاع ملا محمد یعقوب نے کی جبکہ افغان انٹیلی جنس چیف عبدالحق وثیق بھی مذاکرات میں شریک تھے۔ دونوں فریقین نے باہمی احترام، سرحدی امن اور دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔

ناشر Thursday Media International thursday.media