عمران خان وہ لیڈر ہیں جو پاکستان اور اسرائیل کے مابین تعلقات کیلئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، عمران خان بطور وزیراعظم پاکستانی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دے چکے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر بن کر پاکستان کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔
اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو عمران خان کی رہائی کیلئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے، عمران خان عوامی رائے اور پاکستانی موقف کے برعکس اسرائیل کیلئے خیالات میں وسعت رکھتے ہیں، عمران خان کیلئے اسرائیل سے متعلق پاکستانی پالیسی میں تبدیلی بہت بڑا چیلنج ہے۔
شہداء اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، فساد فی الارض برپا کرنے والوں پر زمین تنگ رہے گی، فتنہ الخوارج کا خاتمہ کریں گے، دہشتگردوں کو جہاں پائیں گے سرکوبی کریں گے، فوج اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے والے عناصر کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔
غزہ میں مسلمانوں پر بدترین مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، ان دلخراش واقعات کی وجہ سے ہمارے یومِ آزادی کی خوشیاں ماند پڑ گئی ہیں، اسرائیل جارحیت پر دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، تاریخ میں اس سے بدترین ظلم و زیادتی کی کوئی اور مثال نہیں ملتی۔
اسماعیل ہنیہ کی شہادت امن کی کوششوں کو بڑا دھچکا ہے، پاکستان اسماعیل ہنیہ کے اہلِ خانہ اور فلسطینوں سے اظہارِ یکجہتی کرتا ہے، فلسطین ایک مقتل بن چکا، آنکھیں بند کرنے سے کام نہیں چلے گا، پاکستان فلسطین کی امداد جاری رکھے گا۔
Pakistan says the United States and Iran have expressed confidence in its role as a potential facilitator for talks, with Islamabad saying it would be honoured to host negotiations in the coming days.
امریکا و ایران دونوں نے ممکنہ مذاکرات میں سہولت کاری کیلئے پاکستان پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ پاکستان آئندہ چند روز میں ممکنہ مذاکرات میں میزبانی و سہولتکاری کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزراءِ خارجہ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے خطہ میں امن کیلئے پاکستانی کوششوں کی بھرپور حمایت اور تائید کی۔
امریکا ایران کو مذاکراتی عمل تک لانے والا پاکستان سفارتی محاذ پر غیر معمولی اہمیت حاصل کر رہا ہے جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار نمایاں ہے۔ پاکستان خطہ کے توازن پر اثرانداز ہوتے ہوئے واشنگٹن، تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان پُل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
Pakistan is preparing to host the foreign ministers of Saudi Arabia, Turkey and Egypt for bilateral meetings and a four-country diplomatic session in Islamabad that is expected to conclude with a joint communiqué and possibly a meeting with Prime Minister Shehbaz Sharif.
مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ اتوار کی صبح، سعودی وزیرِ خارجہ سہ پہر پاکستان پہنچیں گے۔ شام کو چاروں وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات ہو گی جبکہ عشائیہ کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔