نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے اسرائیل کے فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قطر کی خودمختاری اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ کاسلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلانے، انسانی حقوق کونسل میں فوری بحث اور دوحہ میں غیر معمولی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کی حمایت کا اعلان۔
عمران خان کی پارٹی نے فلسطین پر آل پارٹیز کانفرنس کا بائیکاٹ کیا، کیا لیڈر سیاسی مفادات کیلئے اس قدر اہم سفارتی معاملہ بھی نظر انداز کر سکتا ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان اسرائیل کے ساتھ سیاسی شطرنج کی اگلی چال تیار کر رہے ہیں۔ کیا فلسطین کی حمایت صرف اس وقت اہمیت رکھتی ہے جب عمران خان تخت پر ہوں؟
اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی سے روکنا ہو گا، اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی اور تجارت پر پابندیاں عائد کی جائیں، اسرائیلی قیادت کو اسکے جرائم پر قابلِ گرفت ٹھہرایا جائے، سلامتی کونسل جموں و کشمیر کے بگڑتے تنازع کو مزید نظر انداز نہیں کر سکتی۔
عمران خان وہ لیڈر ہیں جو پاکستان اور اسرائیل کے مابین تعلقات کیلئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، عمران خان بطور وزیراعظم پاکستانی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دے چکے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر بن کر پاکستان کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔
اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو عمران خان کی رہائی کیلئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے، عمران خان عوامی رائے اور پاکستانی موقف کے برعکس اسرائیل کیلئے خیالات میں وسعت رکھتے ہیں، عمران خان کیلئے اسرائیل سے متعلق پاکستانی پالیسی میں تبدیلی بہت بڑا چیلنج ہے۔
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
Pakistan did what many thought impossible: it helped secure a US-Iran framework that has entered into force and now moves into technical implementation.
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا ایران معاہدے (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) پر بطور ثالث دستخط کر دیئے۔
اسلام آباد ایم او یو پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط بھی موجود ہیں۔
اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تسلیم شدہ ثالث کے طور پر اُبھرا ہے۔
Prime Minister Shehbaz Sharif has signed the Islamabad MoU as mediator after Donald Trump and Masoud Pezeshkian endorsed the US-Iran agreement aimed at ending hostilities and reopening the Strait of Hormuz.