پاکستان کو طالبان حکومت کو ختم کرنے کے لیے اپنے اسلحے کا ایک معمولی حصہ بھی استعمال کرنے کی ضرورت نہیں، اگر ضرورت پڑی تو ہم طالبان کو دوبارہ غاروں میں دھکیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستان امن چاہتا ہے مگر اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع میں کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
Pakistan and Afghanistan agreed to an immediate ceasefire during Qatar and Türkiye-mediated talks in Doha, pledging to end cross-border violence and respect each other’s sovereignty, with follow-up meetings in Istanbul aimed at building a framework for lasting regional peace.
پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوری سیز فائر معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کی باضابطہ تصدیق قطر کی وزارتِ خارجہ نے کر دی ہے۔ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں قطر اور ترکیہ نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔
پاکستانی سر زمین پر مقیم تمام افغانیوں کو اب اپنے وطن جانا ہوگا، اب احتجاجی مراسلات اور امن کی اپیلیں نہیں ہونگی۔ اور کابل نمائندہ وفد بھی نہیں بھیجا جائے گا۔ جہاں بھی دہشت گردی کا منبع ہو گا، اسے بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو اب وطن واپس جانا ہوگا، پچاس سال سے جاری افغان مہاجرین کی موجودگی اب ختم ہونی چاہیے۔ پاک افغان سرحد کو مکمل طور پر کنٹرول میں لایا جائے گا تاکہ غیرقانونی آمد و رفت، اسمگلنگ اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکے۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔
Just before Donald Trump was due to address the nation on the Middle East conflict, Iran’s President Masoud Pezeshkian published an open letter to Americans, arguing that Tehran is being falsely cast as a threat and warning that more attacks will bring only suffering, instability and lasting resentment.
فرانس نے بھارت کو رافیل کے بنیادی سوفٹ ویئر و حساس سورس کوڈز تک رسائی دینے سے انکار کر دیا، موجودہ شرائط کے مطابق الیکٹرونک و سوفٹ وئیر ساخت پر حتمی کنٹرول فرانس کا رہے گا۔ بھارتی فضائیہ میں سکواڈرنز کی تعداد پہلے ہی ضرورت سے کم ہے۔
The Guardian was entitled to publish Mahrang Baloch’s testimony. But readers should read it for what it is: a partisan account, sharply written and emotionally potent, not a settled version of events.