پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا اجلاس؛ نواز شریف کو 28 مئی (یومِ تکبیر) کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کا صدر منتخب کیا جائے گا، وزیراعظم شہباز شریف 28 مئی تک مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر نامزد۔
میں آلو ٹماٹر پیاز کی قیمتیں کم کرنے اور لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے آئی ہوں، روٹی پچیس روپے سے سستی ہو کر پندرہ روپے پر آ گئی ہے، آج کل زیادہ وقت صحت اور تعلیم کے شعبوں پر کام کرتے ہوئے گزر رہا ہے۔
امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی وزیرِ اعلٰی پنجاب مریم نواز شریف سے ملاقات، پاکستان کی تاریخ میں پہلی خاتون وزیرِ اعلٰی منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی، امریکی سفیر نے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں خصوصی دلچسپی اور تیزی سے عملدرآمد کیلئے وزیرِ اعلٰی پنجاب کی کاوشوں کو سراہا
بچوں اور عورتوں سے زیادتی کے مجرموں کو عبرت کا نشان بنایا جائیگا، یہ جرم ناقابل ضمانت ہوگا۔ پولیس کو کرپشن اور جرائم پیشہ عناصر کے مددگاروں سے پاک کرنے اور پولیس میں کرپشن کی نشاندہی کیلئے سپیشل آڈٹ سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
سوشل میڈیا کے ذریعہ نوجوان نسل کا برین واش کیا جا رہا ہے جس کا سدّباب ناگزیر ہے، پاکستان میں سیاسی فاشزم بھی دہشتگردی کی شکل اختیار کر رہا ہے جبکہ 9 مئی کو سیاسی دہشتگردی کے نتائج دنیا بھر نے دیکھے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔
Iranian President Masoud Pezeshkian will visit Pakistan on June 23 for a one-day official trip following Pakistan and Qatar’s mediation in the latest Iran-US talks in Switzerland.
Pakistan’s role at the Lake Lucerne Summit marked a rare diplomatic success, placing Islamabad alongside Qatar as a mediator in the US-Iran process. Shehbaz Sharif gave the effort political direction, while Field Marshal Asim Munir added security credibility.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔