پنجاب کی نامزد خاتون وزیراعلی مریم نواز نے پنجاب اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھا لیا ہے۔ مریم نواز کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتی ہیں کہ اب پنجاب میں خدمت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔
پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِ اعلٰی ہونا اعزاز ہے، یہ اعزاز پاکستان کی ہر ماں، ہر بہن اور ہر بیٹی کے نام کرتی ہوں، عوامی خدمت کی روشن روایات قائم رکھیں گے۔
نامزد وزیرِ اعلٰی پنجاب مریم نواز کا پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب، اجلاس میں 218 منتخب اراکین شریک تھے۔
نواز شریف اگلے پانچ برس بھرپور سیاست کریں گے، نواز شریف مرکز اور پنجاب میں اپنی حکومتوں کی سرپرستی کریں گے، وزارتِ عظمیٰ قبول نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سیاست سے کنارہ کش ہو رہے ہیں، میں اور شہباز شریف ان کے سپاہی ہیں۔
قومی اسمبلی کی نشستوں پر آزاد حیثیت سے منتخب ہو کر مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرنے والے اراکین کی تعداد 6 ہو گئی، مرکز میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرنے والی مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی مجموعی تعداد 81 ہو گئی۔
مسلم لیگ (ن) وفاق اور پنجاب میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھر رہی ہے، میڈیا کے ایک حصہ نے حقائق سے برعکس تاثر پیدا کیا، کچھ نتائج کا انتظار ہے، نواز شریف حتمی نتائج موصول ہونے کے بعد وکٹری سپیچ کریں گے۔
مریم نواز شریف
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔
Iranian President Masoud Pezeshkian will visit Pakistan on June 23 for a one-day official trip following Pakistan and Qatar’s mediation in the latest Iran-US talks in Switzerland.
Pakistan’s role at the Lake Lucerne Summit marked a rare diplomatic success, placing Islamabad alongside Qatar as a mediator in the US-Iran process. Shehbaz Sharif gave the effort political direction, while Field Marshal Asim Munir added security credibility.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔