ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں، ہم کھوکھلے نعرے نہیں لگاتے، ہم سچی اور کھری باتیں کرتے ہیں، ہم انشاءاللّٰه اپنا ہر وعدہ پورا کرتے ہیں، طلال چوہدری کی وفا بےمثال ہے، فیصل آباد میں صرف میٹرو بس نہیں بلکہ اورنج لائن ٹرین بھی ہونی چاہیے۔
ہم نے قسم کھائی ہے کہ ملک و قوم کی خدمت میں سب کچھ کر گزرنا ہے، میرے ساتھ جو ظلم ہوا میں وہ برداشت کر رہا ہوں لیکن جو ظلم عوام کے ساتھ کیا گیا وہ میں برداشت نہیں کر سکتا، ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں، ترقی و خوشحالی کیلئے بہت محنت کرنا پڑے گی۔
مسلم لیگ (ن) کے منشور میں عوام کی ہر تکلیف کا احساس ہے، ہم اللّٰه کی مدد سے ہر وعدہ پورا کریں گے، ایک جماعت نے منشور پیش نہیں کیا لیکن پورا پاکستان جانتا ہے کہ اس کا منشور پیٹرول بم اور کیلوں والے ڈنڈے ہیں۔
ہمیں بار بار اقتدار سے نکالا گیا اور ہم ہر بار جیلیں اور جلاوطنی کاٹ کر واپس آئے، ہم نے 2022 میں ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کی بھاری سیاسی قیمت ادا کی اور آئندہ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہمارا راستہ نہ روکا جانا تو آج پاکستان ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوتا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔
Iranian President Masoud Pezeshkian will visit Pakistan on June 23 for a one-day official trip following Pakistan and Qatar’s mediation in the latest Iran-US talks in Switzerland.
Pakistan’s role at the Lake Lucerne Summit marked a rare diplomatic success, placing Islamabad alongside Qatar as a mediator in the US-Iran process. Shehbaz Sharif gave the effort political direction, while Field Marshal Asim Munir added security credibility.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔