مسلم لیگ (ن) واحد جماعت ہے جو مشکل ترین حالات میں عوام کو ریلیف دینا جانتی ہے، پی ٹی آئی کی ناقص پالیسیز نے ملک کو مہنگائی کی دلدل میں دھکیلا، مسلم لیگ (ن) عوام کو مہنگائی و بجلی کے بھاری بِلز سے نجات دلائے گی اور معیشت کی مضبوطی کیلئے جو بھی کرنا پڑا کرے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور نواز شریف کے اعلان کے مطابق عوام کو بجلی کے بلوں میں ریلیف ملنا شروع ہوگیا ہے جس کا مقصد عوام پر معاشی دباو کم کرنا ہے۔ اس ریلیف کے لیے پنجاب حکومت نے 45 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
وزیرِ اعلٰی پنجاب مریم نواز شریف نے ’’اپنا گھر اپنی چھت‘‘ منصوبہ کا افتتاح کر دیا۔ اپنی چھت اور اپنا گھر سب سے بڑی نعمت ہیں، لوگ گھر بنانے کیلئے تمام عمر محنت کرتے ہیں، پنجاب ہر کام میں آگے ہے، ہمیں دیکھ کر لوگوں کی دوڑیں لگ گئی ہیں۔
پوزیشن ہولڈر طلباء ہمارے سروں کا تاج ہیں، آپ نے والدین اور اساتذہ کا نام روشن کیا، ہم نے بچوں کے ہاتھوں میں پیٹرول بم اور کیلوں والے ڈنڈے نہیں دینے، ہم تعلیم کے شعبہ میں بڑی اصلاحات لا رہے ہیں، آج بچوں کو گارڈ آف آنر ملتے دیکھا تو آنکھیں نم ہو گئیں۔
عوام مہنگائی کے کرب سے گزر رہے ہیں، جن کا 2017 میں 1600 بل آتا تھا آج ان کا 18 ہزار آتا ہے، مریم نواز نے ریلیف پیکج تیار کیا ہے، پنجاب میں 500 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والوں کو فی یونٹ 14 روپے ریلیف دیا جائے گا جس کیلئے 45 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔
Iranian President Masoud Pezeshkian will visit Pakistan on June 23 for a one-day official trip following Pakistan and Qatar’s mediation in the latest Iran-US talks in Switzerland.
Pakistan’s role at the Lake Lucerne Summit marked a rare diplomatic success, placing Islamabad alongside Qatar as a mediator in the US-Iran process. Shehbaz Sharif gave the effort political direction, while Field Marshal Asim Munir added security credibility.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
Pakistan did what many thought impossible: it helped secure a US-Iran framework that has entered into force and now moves into technical implementation.