Pakistan’s army chief Asim Munir hails a “victory over India” and invokes faith during a high profile ceremony in Islamabad where President Asif Ali Zardari awards Jordan’s King Abdullah II the Nishan i Pakistan, blending military messaging with diplomatic theatre.
جنگ مسلط کرنے والوں کو اسی طرح جواب دیں گے جیسے مئی میں دیا۔ بھارت کے خلاف جنگ میں اللّٰه نے پاکستان کو سربلند کیا، فتح دلانے پر اللّٰه کے شکر گزار ہیں۔ مسلمان اللّٰه پر بھروسہ کرتا ہے تو دشمن پر پھینکی مٹی بھی میزائل بن جاتی ہے۔
ادشاہِ اردن شاہ عبداللّٰہ دوم 2 روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے جہاں وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف زرداری نے اُن کا استقبال کیا۔ وزیراعظم ہاؤس میں پُروقار استقبالیہ تقریب کا انعقاد، شاہ عبداللّٰہ دوم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
پاکستان کی 2025 میں سفارتی معجزات کی بدولت خارجہ محاذ پر پاکستان کی غیر معمولی کامیابیاں۔ سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ، امریکہ سے تعلقات کی بحالی، ایران اور ترکی کے ساتھ اقتصادی تعاون، اور چین کے ساتھ تعلقات کا فروغ اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی نے خطے کا توازن بدل دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے سفارتی مہارت سے ثابت کیا کہ ٹرمپ جیسے طاقتور رہنما سے کیسے مؤثر انداز میں ڈیل کی جاتی ہے۔ غزہ جنگ بندی کے بعد ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اپنا “پسندیدہ فیلڈ مارشل” قرار دیا، جبکہ واشنگٹن اسلام آباد کو خطے میں اہم شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
Pakistan says the United States and Iran have expressed confidence in its role as a potential facilitator for talks, with Islamabad saying it would be honoured to host negotiations in the coming days.
امریکا و ایران دونوں نے ممکنہ مذاکرات میں سہولت کاری کیلئے پاکستان پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ پاکستان آئندہ چند روز میں ممکنہ مذاکرات میں میزبانی و سہولتکاری کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزراءِ خارجہ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے خطہ میں امن کیلئے پاکستانی کوششوں کی بھرپور حمایت اور تائید کی۔
امریکا ایران کو مذاکراتی عمل تک لانے والا پاکستان سفارتی محاذ پر غیر معمولی اہمیت حاصل کر رہا ہے جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار نمایاں ہے۔ پاکستان خطہ کے توازن پر اثرانداز ہوتے ہوئے واشنگٹن، تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان پُل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
Pakistan is preparing to host the foreign ministers of Saudi Arabia, Turkey and Egypt for bilateral meetings and a four-country diplomatic session in Islamabad that is expected to conclude with a joint communiqué and possibly a meeting with Prime Minister Shehbaz Sharif.
مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ اتوار کی صبح، سعودی وزیرِ خارجہ سہ پہر پاکستان پہنچیں گے۔ شام کو چاروں وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات ہو گی جبکہ عشائیہ کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔