پاکستان کے خلاف دہشتگردی کی حالیہ وارداتیں ہائبرڈ جنگ کی منظم لہریں اور بھارتی ’’آپریشن سندور‘‘ کا تسلسل دکھائی دیتی ہیں۔ ملکی بقاء اور سلامتی کیلئے دشمن قوتوں کے عزائم کو شکست دینا ہو گی جس کیلئے قومی اتحاد، مسلسل و مؤثر ریاستی پالیسیز اور سیاسی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
دہشتگردی ہندوستان کا وطیرہ ہے، ہم دشمن کو چھپ کر نہیں بلکہ للکار کر مارتے ہیں۔ معرکہِ حق میں اللّٰه کی مدد و نصرت سے فتح ملی۔ تمام مسلم ممالک میں سے حفاظتِ حرمین کا شرف پاکستان کو حاصل ہوا، دفاعی معاہدہ تاریخی ہے۔
Speaking to religious scholars in Islamabad, Prime Minister Shehbaz Sharif said Pakistan will not progress through “magic” or shortcuts but through hard work, unity and respect for the armed forces. He hailed the army’s performance against India, urged clerics to fight sectarianism and argued that tough decisions by political and military leaders have helped pull the economy back from the edge of default.
پاکستان نہ جادو ٹونے سے آگے بڑھ سکتا ہے، نہ انتشار اور فرقہ واریت کے سہارے۔ اس کے لیے سخت محنت اور قومی یکجہتی ناگزیر ہے۔ بھارت کے خلاف معرکۂ حق میں افواجِ پاکستان کی جرات مندانہ فتح نہ صرف پوری قوم بلکہ ہمارے دوست اور برادر ممالک کے لیے بھی باعثِ فخر ہے۔ فوج کے خلاف ہونے والے ہر پراپیگنڈے کا مؤثر جواب دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبہ کے تمام شہروں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا اعلان کر دیا۔ اورنج لائن ٹرین، میٹروبس سروس، سپیڈو بس اور گرین الیکٹرو بس میں سفر کیلئے ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا۔ کاشت کاروں کیلئے ڈیزل سبسڈی کا بھی اعلان کر دیا گیا۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔
Just before Donald Trump was due to address the nation on the Middle East conflict, Iran’s President Masoud Pezeshkian published an open letter to Americans, arguing that Tehran is being falsely cast as a threat and warning that more attacks will bring only suffering, instability and lasting resentment.