پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
Operation Radd-ul-Fitna-1 has been successfully completed in Balochistan, with ISPR saying intelligence-based operations dismantled terrorist networks and dealt a major blow to their leadership and operational capacity.
آپریشن ردّالفتنہ-1 کے دوران بلوچستان میں بھارتی سرپرستی یافتہ دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائیوں میں مجموعی طور پر 216 دہشتگرد ہلاک کیے گئے، جن میں 41 پنجگور اور ہرنائی میں مارے گئے۔ اس دوران 36 معصوم شہری شہید ہوئے جبکہ وطن کے دفاع میں 22 بہادر سیکیورٹی اہلکاروں نے جان کا نذرانہ پیش کیا۔
پوری دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں ہونے والے دہشتگرد حملوں میں بھارت پوری طرح ملوث ہے، ان حملوں کی منصوبہ بندی اور پشت پناہی میں بھی بھارت شامل ہے، اور پاکستان کے پاس اس حوالے سے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں جو عالمی برادری کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔
سال 2025 میں انسدادِ دہشتگردی جدوجہد کو ناپنے کیلئے 7 پیمانے؛ قومی انسدادِ دہشتگردی کوششوں کا جائزہ لینے 7 قابلِ تصدیق پیمانے یہ واضح کرتے ہیں کہ 2025 میں ملکی سلامتی کے محاذ پر کتنی اور کس نوعیت کی کامیابیاں حاصل کی گئیں۔
فتنہ الخوارج و فتنہ الہندوستان کا افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ پاکستان اور افغانستان میں امن تبھی ہو سکتا ہے جب افغان طالبان دہشتگردی اور دہشتگرد تنظیموں کی حمایت سے دستبردار ہو جائیں۔
حذّر وزير الخارجية الباكستاني إسحاق دار نظيره الإيراني من شنّ أي هجمات على السعودية، مشيراً في ذلك إلى اتفاق الدفاع المشترك بين باكستان والسعودية. وفي وقتٍ سابق، أعرب رئيس الوزراء شهباز شريف خلال اتصال هاتفي مع ولي العهد السعودي عن تضامنٍ كامل مع المملكة.
A viral “Israel War Room” post is being cited as “official sources” to claim Pakistan is joining Israel, but Pakistan’s stance is deterrence and de-escalation aimed at stopping Gulf spillover; screenshots do not make alliances, decisions do.
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت پارلیمانی جماعتوں کے راہنماؤں و نمائندوں کا اجلاس، دفترِ خارجہ حکام نے ایران اسرائیل تنازعہ کے بعد ملکی فارن پالیسی پر بریفنگ دی۔ شرکاء کو خلیجی و عرب ممالک پر ایرانی حملوں کے بعد پاکستانی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا گیا۔
پاکستانی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب کو سعودی عرب پر حملوں سے گریز کرنے کی تنبیہ کر دی جس میں پاک سعودی باہمی دفاعی معاہدے کا حوالہ بھی دیا گیا۔ قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کے ساتھ فون کال پر مکمل یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔