Pakistan’s military has described terrorism as the country’s most serious threat, pointing to significant gains in 2025 and warning that any future aggression from India or Afghanistan would trigger a decisive response.
دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی مشترکہ جدوجہد ہے، دہشت گردوں کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ پاکستان سے، اور ریاستی پالیسی واضح، غیر مبہم اور غیر متزلزل ہے۔ پاکستان اپنی سلامتی، خودمختاری اور مستقبل پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا، اور معرکہِ حق میں بھارت کو دیا گیا فیصلہ کن سبق اس عزم کا واضح ثبوت ہے۔
General Asim Munir reinforces Pakistan's commitment to eradicating terrorism, emphasising decisive military action and political unity. Security forces continue dismantling terrorist networks, strengthening national security.
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ترکیہ کے آرمی چیف سے ٹیلیفونک گفتگو؛ دونوں ممالک کے باہمی دفاعی تعلقات، خطہ میں بڑھتی کشیدگی اور بدلتی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فیلڈ مارشل کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات کے بعد یہ رابطہ اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہِ سعودی عرب اور پاکستانی سفارتکاری کے مثبت اثرات؛ ایران نے پڑوسی ممالک پر حملے روکنے کا اعلان کر دیا۔ پاکستانی فوجی سربراہ اور سعودی وزیرِ دفاع کی ملاقات کو طاقت کے توازن و ردعمل کے امکانات میں ڈیٹرینس سگنل کے طور پر دیکھا گیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پڑوسی ممالک سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ایران کی عبوری قیادت کونسل نے اِس بات کی منظوری دی ہے کہ ہمسایہ ممالک کے خلاف کوئی حملہ یا میزائل سٹرائیک نہیں ہو گا جب تک کہ اُن ممالک کی طرف سے ایران کے خلاف کوئی حملہ نہیں کیا جاتا۔
التقى وزيرُ الدفاع السعودي الأمير خالد بن سلمان بباكستانيّ قائد الجيش ورئيس هيئة الدفاع الفريق أول (المشير) عاصم منير، حيث جرى بحث تطورات الأوضاع المتوترة في المنطقة على خلفية الهجمات الإيرانية، إلى جانب استعراض إطار التعاون الدفاعي السعودي الباكستاني. وأعرب الجانبان عن أملهما في أن تتعامل إيران بحكمة، بما يجنّب المنطقة أي تصعيد غير ضروري ويحدّ من مخاطر الانزلاق نحو مواجهة أوسع.
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی ملاقات؛ ایرانی حملوں کے باعث خطہ کی کشیدہ صورتحال اور پاک سعودی دفاعی فریم ورک پر تبادلہِ خیال کرتے ہوئے امید ظاہر کی گئی کہ ایران دانشمندی سے کام لیتے ہوئے غیر ضروری تصادم سے گریز کرے گا۔