امریکا ایران کو مذاکراتی عمل تک لانے والا پاکستان سفارتی محاذ پر غیر معمولی اہمیت حاصل کر رہا ہے جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار نمایاں ہے۔ پاکستان خطہ کے توازن پر اثرانداز ہوتے ہوئے واشنگٹن، تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان پُل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
افغانستان کے خلاف جنگ ہمارا انتخاب نہیں، ضرورت ہے۔ مقصد رجیم چینج نہیں، دہشتگردی کو روکنا ہے۔ پاکستان سے شکست کے بعد بھارت کے پاس پراکسی وار کے علاوہ آپشن نہیں۔ افواجِ پاکستان ہر دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ افغان حکومت کو دہشتگردوں کی سہولت کاری ختم کرنا ہو گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا آپریشن کے بعد ایران کے بارے میں غلط اندازہ لگایا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہِ سعودی عرب اور پاکستانی سفارتکاری کے مثبت اثرات؛ ایران نے پڑوسی ممالک پر حملے روکنے کا اعلان کر دیا۔ پاکستانی فوجی سربراہ اور سعودی وزیرِ دفاع کی ملاقات کو طاقت کے توازن و ردعمل کے امکانات میں ڈیٹرینس سگنل کے طور پر دیکھا گیا۔
فتنہ الخوارج و فتنہ الہندوستان کا افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ پاکستان اور افغانستان میں امن تبھی ہو سکتا ہے جب افغان طالبان دہشتگردی اور دہشتگرد تنظیموں کی حمایت سے دستبردار ہو جائیں۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے طالبان حکومت کو سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہوگی اور “دما دم مست قلندر” ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی بلکہ ہمسایہ ہونے کے ناتے زمینی حقائق اور حالات سے پوری طرح واقف ہے اور تمہاری اوقات بھی جانتی ہے۔
موڈیز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو سی اے اے 1 سے بڑھا کر بی 3 کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق مسلسل معاشی استحکام سے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہوا، بیرونی مالی خطرات میں کمی آئی، شرحِ سود میں کمی سے مالیاتی پوزیشن بہتر ہوئی، قرض ادائیگی کی استطاعت بڑھ گئی۔
Field Marshal Asim Munir traveled to Tehran on Monday for his third visit this year, meeting Iran's newly appointed military leadership as Pakistan works to revive stalled US-Iran talks. Iran's Foreign Ministry says bilateral ties between the two countries have reached one of their strongest stages.
Pakistan's Army Chief Asim Munir will travel to Tehran on Monday, Iran's Foreign Ministry says, in his third visit this year tied to US-Iran mediation efforts.
عمران خان کے قریبی ساتھی زلفی بخاری نے روئٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ رہائی کی صورت میں عمران خان آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے محاذ آرائی نہیں کریں گے۔
یہ محض لہجے میں نرمی نہیں، بلکہ پی ٹی آئی کے دو سالہ بیانیے “ڈٹ کر کھڑا ہے کپتان” کی خاموش تدفین دکھائی دیتی ہے۔
Imran Khan’s sister says he is fit, with normal blood pressure and improved eyesight. Official records document specialist treatment and family access. Yet the international narrative remains one of isolation and medical crisis. The record versus the rhetoric.