Pakistan’s military has described terrorism as the country’s most serious threat, pointing to significant gains in 2025 and warning that any future aggression from India or Afghanistan would trigger a decisive response.
دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی مشترکہ جدوجہد ہے، دہشت گردوں کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ پاکستان سے، اور ریاستی پالیسی واضح، غیر مبہم اور غیر متزلزل ہے۔ پاکستان اپنی سلامتی، خودمختاری اور مستقبل پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا، اور معرکہِ حق میں بھارت کو دیا گیا فیصلہ کن سبق اس عزم کا واضح ثبوت ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر رسمی سفارتی انداز کے ساتھ تیزی سے ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے بیک وقت واشنگٹن، بیجنگ، ریاض اور تہران تک روابط برقرار رکھے ہیں جبکہ بھارت اِس بدلتے سفارتی منظر نامہ پر بےچینی محسوس کر رہا ہے۔
پاکستان نے لیبیا کے ساتھ 4 بلین ڈالرز سے زائد کے دفاعی معاہدہ کو حتمی شکل دے دی۔ معاہدے میں 16 جے ایف 17 لڑاکا طیاروں، پاک چین اشتراک سے تیار کیے گئے ایک ملٹی رول طیارہ اور 12 سپر مشاق ٹرینر طیاروں کی خریداری شامل ہے۔
سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے ریاض میں ملاقات کے دوران پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسیلنٹ کلاس پیش کیا، جبکہ سعودی بیان میں اسے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات اور دفاعی تعاون مضبوط بنانے کی کوششوں کا اعتراف قرار دیا گیا۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔
Just before Donald Trump was due to address the nation on the Middle East conflict, Iran’s President Masoud Pezeshkian published an open letter to Americans, arguing that Tehran is being falsely cast as a threat and warning that more attacks will bring only suffering, instability and lasting resentment.
فرانس نے بھارت کو رافیل کے بنیادی سوفٹ ویئر و حساس سورس کوڈز تک رسائی دینے سے انکار کر دیا، موجودہ شرائط کے مطابق الیکٹرونک و سوفٹ وئیر ساخت پر حتمی کنٹرول فرانس کا رہے گا۔ بھارتی فضائیہ میں سکواڈرنز کی تعداد پہلے ہی ضرورت سے کم ہے۔
The Guardian was entitled to publish Mahrang Baloch’s testimony. But readers should read it for what it is: a partisan account, sharply written and emotionally potent, not a settled version of events.