فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر رسمی سفارتی انداز کے ساتھ تیزی سے ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے بیک وقت واشنگٹن، بیجنگ، ریاض اور تہران تک روابط برقرار رکھے ہیں جبکہ بھارت اِس بدلتے سفارتی منظر نامہ پر بےچینی محسوس کر رہا ہے۔
پاکستان نے لیبیا کے ساتھ 4 بلین ڈالرز سے زائد کے دفاعی معاہدہ کو حتمی شکل دے دی۔ معاہدے میں 16 جے ایف 17 لڑاکا طیاروں، پاک چین اشتراک سے تیار کیے گئے ایک ملٹی رول طیارہ اور 12 سپر مشاق ٹرینر طیاروں کی خریداری شامل ہے۔
سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے ریاض میں ملاقات کے دوران پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسیلنٹ کلاس پیش کیا، جبکہ سعودی بیان میں اسے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات اور دفاعی تعاون مضبوط بنانے کی کوششوں کا اعتراف قرار دیا گیا۔
Saudi Defence Minister Prince Khalid bin Salman awards Field Marshal Asim Munir the King Abdulaziz Medal of the Excellent Class by order of King Salman, with Riyadh citing efforts to strengthen strategic and defence ties.
لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو 14 ماہ قید بامشقت کی سزا: سابق ڈی جی آئی ایس آئی پر کیا الزامات تھے اور کیسے ثابت ہوئے؟ فیض حمید کن جرائم میں ملوث تھے؟ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا فیصلہ کیوں تاریخی ہے اور ابھی کون سے معاملات باقی ہیں؟
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای یورپ میں لگژری پراپرٹیز و فائیو سٹار ہوٹلز سمیت وسیع سرمایہ کاری سلطنت رکھتے ہیں جو لندن سے جرمنی و سپین تک ہے۔ مالی طاقت خلیج فارس کی شپنگ سے سوئس بینک اکاؤنٹس و برطانوی پراپرٹیز تک 138 ملین ڈالرز سے زیادہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال، پاکستان کی جانب سے مشکل حالات میں سعودی عرب کیلئے مکمل یکجہتی و حمایت کا اظہار، وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔