پاکستان نے لیبیا کے ساتھ 4 بلین ڈالرز سے زائد کا دفاعی معاہدہ کر لیا، برطانوی نیوز ایجنسی رائٹرز

پاکستان نے لیبیا کے ساتھ 4 بلین ڈالرز سے زائد کے دفاعی معاہدہ کو حتمی شکل دے دی۔ معاہدے میں 16 جے ایف 17 لڑاکا طیاروں، پاک چین اشتراک سے تیار کیے گئے ایک ملٹی رول طیارہ اور 12 سپر مشاق ٹرینر طیاروں کی خریداری شامل ہے۔

Army Chief Field Marshal Syed Asim Munir meets with Field Marshal Khalifa Belqasim Haftar, Commander-in-Chief of the Libyan Arab Armed Forces, during official visit to Libya. — FILE
Army Chief Field Marshal Syed Asim Munir meets with Field Marshal Khalifa Belqasim Haftar, Commander-in-Chief of the Libyan Arab Armed Forces, during official visit to Libya. — FILE

لندن (تھرسڈے ٹائمز) — برطانوی نیوز ایجنسی ’’رائٹرز‘‘ کے مطابق پاکستان نے لیبیا کے ساتھ 4 بلین ڈالرز سے زائد کے دفاعی معاہدہ کو حتمی شکل دے دی ہے تاہم اِس حوالہ سے پاکستان کی جانب سے سرکاری یا فوجی سطح پر اب تک کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔

رائٹرز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے لیبیا کی قومی فوج کو فوجی ساز و سامان فروخت کرنے کیلئے 4 بلین ڈالرز سے زائد کا معاہدہ کر لیا ہے جس کو پاکستان کے چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور لیبین نیشنل آرمی (ایل این اے) کے ڈپٹی کمانڈر انچیف صدام خلیفہ حفتر کے درمیان گزشتہ ہفتے مشرقی لیبیا کے شہر ’’بن غازی‘‘ میں ہونے والی ملاقات کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے۔

برطانوی نیوز ایجنسی ’’رائٹرز‘‘ نے لکھا ہے کہ پاکستان کی جانب سے سرکاری طور پر اِس معاہدے کی تصدیق نہیں کی گئی جبکہ وزارتِ خارجہ، وزارتِ دفاع اور پاکستانی فوج نے اِس حوالہ سے کسی بھی طرح کے تبصرے سے گریز کیا ہے۔

رائٹرز کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان اور لیبیا کے مابین طے پانے والے اِس معاہدہ میں 16 جے ایف 17 لڑاکا طیاروں، پاکستان اور چین کے مشترکہ طور پر تیار کیے گئے ایک ملٹی رول لڑاکا طیارے اور بنیادی طور پر پائلٹ کی تربیت کیلئے استعمال ہونے والے 12 سپر مشاق ٹرینر طیاروں کی خریداری شامل ہے۔

لندن میں قائم نیوز ایجنسی ’’رائٹرز‘‘ کی رپورٹ میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے اِس معاہدہ کے حوالہ سے کوئی باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا جبکہ پاکستانی حکام نے بھی اب تک ایسے کسی معاہدے کی کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔∎

TT Staff Reporter

Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.

اس ڈیسک کی مزید تحریریں

تھرسڈے ٹائمز، ہر صبح

دن کی اہم خبریں، رائے اور سب سے زیادہ پڑھی گئی تحریریں، ایک ای میل میں۔

کبھی بھی ایک کلک سے بند کریں۔

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔