Pakistan’s KSE 100 index hits a new record with 94,000 points, signalling robust economic confidence. Trading volumes soar as investors drive the market upward.
کاروباری ہفتے کے پہلے روز پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی کا رجحان، 100 انڈیکس نے 94,000 پوائنٹس کی بلند سطح پر پہنچ کر ایک نیا ریکارڈ قائم کردیا۔ اس مستحکم صورتحال کو معیشت کی بحالی اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر سمجھا جا رہا ہے۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتہ کے آخری روز بھی زبردست تیزی، 100 انڈکس نے 93,000 ریکارڈ پوائنٹس کی سطح عبور کرلی۔ سٹاک مارکیٹ 400 سے زائد پوائنٹس اضافہ کیساتھ 93,000 پوائنٹس کی سطح عبور کرگئی۔
پی ٹی آئی عمران خان کو بیرونِ مُلک بھجوانے کی کوشش کر رہی ہے جس کیلئے یہ بیرونی طاقتوں کو کہہ رہے ہیں کہ پاکستان پر دباؤ ڈالیں اور وہ مُلک بھی عمران خان کو لینے کیلئے تیار ہے، میں کہتا تھا کہ اکتوبر میں خطرات ہو سکتے ہیں مگر پی ٹی آئی کی کوشش ناکام ہوئی۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تاریخ ساز دن، بینچ مارک ہنڈرڈ انڈیکس میں نیا ریکارڈ قائم ہو گیا، سٹاک ایکسچینج 90 ہزار کی نفسیاتی حد عبور کر گئی، اب تک 1 ہزار 143 پوائنٹس کا اضافہ ہو چکا ہے۔
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
غزہ کی صورتحال اب محض جذباتی بیانات یا احتجاج سے حل نہیں ہوگی۔ جنگ بندی، امداد، اور بحالی کے فیصلے عالمی مذاکراتی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر مؤقف بھی پیش کرے اور عملی ریلیف کے اقدامات میں بھی کردار ادا کرے۔