Pakistan is preparing to host the foreign ministers of Saudi Arabia, Turkey and Egypt for bilateral meetings and a four-country diplomatic session in Islamabad that is expected to conclude with a joint communiqué and possibly a meeting with Prime Minister Shehbaz Sharif.
مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ اتوار کی صبح، سعودی وزیرِ خارجہ سہ پہر پاکستان پہنچیں گے۔ شام کو چاروں وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات ہو گی جبکہ عشائیہ کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔
پاکستان کا ایران پر حملوں کی شدید مذمت: نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی کا رابطہ۔ کشیدگی فوری روکنے اور سفارت کاری کی فوری بحالی کے ذریعے پُرامن، مذاکراتی حل پر زور۔
پاکستان افغانستان کشیدگی: امریکہ کی جانب سے پاکستان کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت۔ امریکی انڈر سیکرٹری ایلیسن ہُکر نے پاکستان کی سیکرٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ سے رابطہ کر کے کہا کہ امریکہ طالبان حملوں کے مقابلے میں پاکستان کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے۔
پاکستان کے مجوزہ غزہ پیس بورڈ میں کردار سے متعلق کوئی بھی فیصلہ سیاسی قیادت اور پارلیمنٹ کے ذریعے اجتماعی طور پر کیا جائے گا، جبکہ شمولیت کی صورت میں امن کے قیام اور انسانی امدادی کوششوں میں تعمیری کردار ادا کیا جائے گا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبہ کے تمام شہروں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا اعلان کر دیا۔ اورنج لائن ٹرین، میٹروبس سروس، سپیڈو بس اور گرین الیکٹرو بس میں سفر کیلئے ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا۔ کاشت کاروں کیلئے ڈیزل سبسڈی کا بھی اعلان کر دیا گیا۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔
Just before Donald Trump was due to address the nation on the Middle East conflict, Iran’s President Masoud Pezeshkian published an open letter to Americans, arguing that Tehran is being falsely cast as a threat and warning that more attacks will bring only suffering, instability and lasting resentment.