تحریکِ انصاف نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے انتخابی نتائج کے معاملات میں مداخلت کی درخواست کر دی، تحریکِ انصاف نے عوامی مینڈیٹ کا دعویٰ کرتے ہوئے جیلوں میں قید پارٹی راہنماؤں کی رہائی کا بھی مطالبہ کر دیا۔
بلاول بھٹو عمران خان ثانی بننے میں مصروفِ عمل ہیں، ان کی تقاریر میں عمران خان کے روایتی انداز کی جھلک دکھائی دیتی ہے، وہ برق رفتاری سے تُو تَڑاق والی زبان بولتے نظر آ رہے ہیں، عمران خان کی پھیلائی پولرائزیشن کے باعث منقسم معاشرہ مزید نفرتوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
مسلم لیگ (ن) تحریکِ انصاف سے انتقام لے رہی ہے، تحریکِ انصاف کے کارکنان میرا ساتھ دیں، میں انتقامی سیاست دفن کر دوں گا، نفرت کی سیاست سے ہمارا معاشرہ تقسیم ہو گیا ہے، پاکستان کی سیاست میں طاہر القادری جیسے لوگوں کی ضرورت ہے، بلاول بھٹو زرداری
حکومت ختم ہونے کے بعد جنرل قمر باجوہ سے ایوانِ صدر میں دو بار مذاکرات ہوئے، جنرل باجوہ نے کہا اچھے بچے بن جاؤ دو تہائی اکثریت دلاؤں گا، پلان سی تیار ہے 8 فروری کو پتہ لگ جائے گا، میں نے کبھی فوج کے خلاف بات نہیں کی۔
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
غزہ کی صورتحال اب محض جذباتی بیانات یا احتجاج سے حل نہیں ہوگی۔ جنگ بندی، امداد، اور بحالی کے فیصلے عالمی مذاکراتی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر مؤقف بھی پیش کرے اور عملی ریلیف کے اقدامات میں بھی کردار ادا کرے۔