پاکستان بروقت و مؤثر سفارتی حکمتِ عملی سے واشنگٹن کا مضبوط اتحادی بن گیا اور امریکی خارجہ پالیسی میں دوبارہ مرکزی حیثیت اختیار کر گیا جبکہ بھارت عالمی سیاسی حقیقت کو نظر انداز کر کے واشنگٹن میں اثر و رسوخ کی جنگ ہار گیا۔
پاکستان اور امریکا کی افواج نے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر میں مشترکہ تربیتی مشق “انسپائرڈ گیمبٹ” مکمل کر لی، جس میں انفنٹری مہارتوں اور انسدادِ دہشت گردی آپریشنز پر توجہ دی گئی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ مشق دونوں ممالک کے دیرینہ دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی عکاس ہے۔
US and Pakistani soldiers concluded Exercise Inspired Gambit this week, focusing on infantry coordination and counterterrorism tactics in a sign of sustained defence engagement between the two countries.
پاکستان نے 2025 میں عملی اقدامات، سٹریٹیجک تعاون و بروقت فیصلوں سے عالمی سیاست میں ایک بار پھر اپنی اہمیت منوائی ہے۔ پاکستان انسدادِ دہشتگردی اقدامات اور مؤثر سفارتی حکمتِ عملی سے واشنگٹن کا قابلِ اعتماد شراکت دار اور مشرقِ وسطیٰ میں اہم کردار بن کر ابھرا ہے۔
واشنگٹن میں انڈیا فرسٹ پالیسی کا خاتمہ، سال 2025 انقلابی ثابت ہوا جس میں پاکستان امریکا کا اہم شراکت دار بن گیا۔ جس پاکستان کو واشنگٹن میں مشتبہ اور تزویراتی طور پر محدود سمجھا جاتا تھا، مئی میں بھارت سے جھڑپ کے بعد خطہ کا اہم کھلاڑی سمجھا جانے لگا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات، علاقائی پیش رفت و امن اقدامات پر تبادلہ خیال ایرانی صدر نے امریکا ایران مذاکرات کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ فیلڈ مارشل نے خطہ میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔
Iranian President Masoud Pezeshkian will visit Pakistan on June 23 for a one-day official trip following Pakistan and Qatar’s mediation in the latest Iran-US talks in Switzerland.
Pakistan’s role at the Lake Lucerne Summit marked a rare diplomatic success, placing Islamabad alongside Qatar as a mediator in the US-Iran process. Shehbaz Sharif gave the effort political direction, while Field Marshal Asim Munir added security credibility.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.