ترکی سعودی عرب اور جوہری صلاحیت رکھنے والے پاکستان کے درمیان قائم دفاعی اتحاد میں شمولیت کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات کر رہا ہے۔ یہ معاہدہ، جس میں کسی ایک رکن پر حملے کو سب پر حملہ تصور کیا جاتا ہے، نیٹو کے آرٹیکل فائیو سے مشابہ ہے اور اس میں ترکی کی شمولیت مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو نمایاں طور پر بدل سکتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت میں اسلام آباد نے واشنگٹن میں مؤثر تزویراتی واپسی اور قابلِ اعتماد شراکت داری کو یقینی بنایا ہے جبکہ یہ صورتحال بھارت کیلئے پریشان کن ہے، ٹرمپ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر کیلئے ذاتی رغبت کے باعث پاک امریکا تعلقات کو تقویت ملی ہے۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے پاکستان کی ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان سے 50 ہزار ٹن چاول، 395 ڈالر فی ٹن پر خریدنے کی منظوری دے دی، حکومت کا مقصد ذخائر بڑھا کر مارکیٹ میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ کم کرنا ہے۔
Bangladesh has cleared a 50,000-tonne rice import from Pakistan under a government-to-government arrangement, pricing the deal at $395 per tonne and setting up new shipments to reinforce food reserves.
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر رسمی سفارتی انداز کے ساتھ تیزی سے ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے بیک وقت واشنگٹن، بیجنگ، ریاض اور تہران تک روابط برقرار رکھے ہیں جبکہ بھارت اِس بدلتے سفارتی منظر نامہ پر بےچینی محسوس کر رہا ہے۔
پاکستان سعودی عرب دفاعی شراکت داری میں ترکیہ کی شمولیت متوقع؛ جنگی تجربات رکھنے والی افواج کے حامل پاکستان کا کردار کلیدی ہے، جنوبی ایشائی ایٹمی طاقت کسی بھی شراکت داری کو مضبوط دفاعی ساکھ فراہم کرتی ہے۔
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔