پاکستان کی 2025 میں سفارتی معجزات کی بدولت خارجہ محاذ پر پاکستان کی غیر معمولی کامیابیاں۔ سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ، امریکہ سے تعلقات کی بحالی، ایران اور ترکی کے ساتھ اقتصادی تعاون، اور چین کے ساتھ تعلقات کا فروغ اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی نے خطے کا توازن بدل دیا ہے۔
خوف اور دہشت پھیلانے والا نظام ختم کر دیا گیا ہے، اب قانون ہاتھ میں لینا ممکن نہیں رہا۔ وفاقی حکومت کی ٹی ایل پی پر پابندی کے بعد ان کے اثاثوں کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔ یہ اقدام کسی جماعت نہیں بلکہ انتشار پھیلانے والے عناصر کے خلاف ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے ثابت کیا کہ بہادری اور عوامی خدمت ساتھ چل سکتے ہیں۔
پاکستان نے طاقت کے مظاہرے کے بعد سفارتکاری سے اپنا مؤقف منوایا اور خطے کا نیا نارمل اپنی شرائط پر قائم کر دیا۔ دوحہ میں اسلام آباد کا واحد مطالبہ تھا کہ افغان سرزمین سے پاکستان مخالف دہشت گردوں کی حمایت بند کی جائے، اور اگر وہاں سے حملے ہوئے تو ذمہ دار کیمپ جائز ہدف سمجھے جائیں گے۔
Pakistan came with one demand and departed with verification, guarantors and a timetable; Kabul kept its face, Islamabad kept the substance. A new regional normal now bears Pakistan’s imprint.
Pakistan and Afghanistan agreed to an immediate ceasefire during Qatar and Türkiye-mediated talks in Doha, pledging to end cross-border violence and respect each other’s sovereignty, with follow-up meetings in Istanbul aimed at building a framework for lasting regional peace.
"Pakistan stands with the Kingdom of Saudi Arabia diplomatically and physically," the Pakistan military spokesman said this week, pausing to underline the second word himself. "We will go to any extent."
Chery has launched its all-electric hatchback in Pakistan at Rs5,554,000, with a 42.7 kWh battery, a claimed 400 km NEDC range and a home charger worth Rs100,000 included in the introductory offer.
پاکستان کسی بھی جارحیت کے خلاف سعودی عرب کے دفاع کیلئے کسی بھی حد تک جائے گا۔ پاکستان عملی و سفارتی طور پر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔ سعودی عرب کی سلامتی اور مکہ و مدینہ کے تحفظ کیلئے پاکستانی عزم غیر مشروط ہے۔ احمد شریف چوہدری
سعودی فضائی دفاع نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں حوثی باغیوں کا ڈرون مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کر دیا۔ عسکری اتحاد کے مطابق یہ مکہ پر حملے کی حوثیوں کی دوسری کوشش تھی۔ مکہ اور مقدس مقامات کی سلامتی کو ”ریڈ لائن“ قرار دے دیا گیا۔