مکہ مکرمہ کے قریب حوثی ڈرون تباہ، سعودی عرب نے مقدس شہر کی سلامتی کو ”ریڈ لائن“ قرار دے دیا

سعودی فضائی دفاع نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں حوثی باغیوں کا ڈرون مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کر دیا۔ عسکری اتحاد کے مطابق یہ مکہ پر حملے کی حوثیوں کی دوسری کوشش تھی۔ مکہ اور مقدس مقامات کی سلامتی کو ”ریڈ لائن“ قرار دے دیا گیا۔

Saudi air defences intercepted a Houthi drone south of Mecca before it entered the holy city’s restricted airspace, which Riyadh has declared a “red line”. — FILE
Saudi air defences intercepted a Houthi drone south of Mecca before it entered the holy city’s restricted airspace, which Riyadh has declared a “red line”. — FILE

ریاض (تھرسڈے ٹائمز) — سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں حوثی باغیوں کے ایک ڈرون کو مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی مار گرایا۔

یمن میں سعودی عرب کی زیرِ قیادت قائم عسکری اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق ڈرون کو منگل کی شام مکہ مکرمہ کے جنوب میں کامیابی سے روکا اور تباہ کیا گیا۔

سعودی حکام کے مطابق ڈرون کو منگل، 15 ستمبر کو شام تقریباً 6 بج کر 50 منٹ پر نشانہ بنایا گیا اور وہ مکہ مکرمہ کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل نہیں ہو سکا۔

ترکی المالکی نے مکہ مکرمہ اور اسلامی مقدس مقامات کی سلامتی کو سعودی عرب کیلئے ”ریڈ لائن“ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مقدس مقامات کو درپیش کسی بھی خطرے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے گا۔

سعودی عسکری اتحاد کا کہنا ہے کہ یہ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی حوثیوں کی دوسری کوشش تھی، اتحاد نے اِس سلسلہ میں جولائی 2017 میں ہونے والے ایک بیلسٹک میزائل حملے کا بھی حوالہ دیا۔

دوسری جانب حوثی باغیوں نے مکہ مکرمہ یا اسلامی مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں ایک بار پھر شدت دیکھی جا رہی ہے اور خطہ میں بڑھتی کشیدگی علاقائی سلامتی کے ساتھ عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کے حوالہ سے بھی خدشات پیدا کر رہی ہے۔

مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام اور خانہ کعبہ واقع ہیں اور دنیا بھر سے ہر سال لاکھوں مسلمان حج اور عمرے کی ادائیگی کیلئے یہاں آتے ہیں۔ اِسی وجہ سے مقدس شہر کی سلامتی کا معاملہ سعودی عرب کی سرحدوں سے کہیں بڑھ کر مسلم دنیا کیلئے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔∎

TT Staff Reporter

Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.

ان کی مزید تحریریں

تھرسڈے ٹائمز، ہر صبح

دن کی اہم خبریں، رائے اور سب سے زیادہ پڑھی گئی تحریریں، ایک ای میل میں۔

کبھی بھی ایک کلک سے بند کریں۔

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔