ریاض (تھرسڈے ٹائمز) — پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے سعودی اخبار ”عرب نیوز“ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی حملے کے خلاف سعودی عرب کے دفاع کیلئے ”کسی بھی حد تک جائے گا“۔ یہ بات اُنہوں نے ایسے وقت میں کہی ہے جب حوثی باغیوں کے بڑھتے ہوئے حملے جوہری طاقت کے حامل جنوبی ایشیائی مُلک پاکستان اور سعودی عرب کو جوڑنے والے نئے مشترکہ دفاعی معاہدوں کیلئے ایک اہم آزمائش بن رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی جانب سے یہ یقین دہانی یمن میں ایران کی اتحادی حوثی ملیشیا کی جانب سے حالیہ دنوں میں سعودی شہروں پر میزائل اور ڈرون حملوں کی لہر کے بعد سامنے آئی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق جمعرات کو طائف میں ایک ڈرون کو فضاء میں تباہ کیے جانے کے بعد اُس کا ملبہ گرنے سے ایک شخص جاں بحق اور دو زخمی ہو گئے، جبکہ حالیہ حملوں میں 80 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
یمن میں حوثیوں کے خلاف برسرِ پیکار سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے رواں ہفتے یہ بھی بتایا کہ اُس نے اسلام کے مقدس ترین شہر مکہ المکرمہ کے اطراف ممنوعہ فضائی حدود کی جانب بڑھنے والے ایک حوثی ڈرون کو فضاء میں تباہ کر دیا۔
علاوہ ازیں، عراق سے آنے والے ڈرونز نے سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے تین پمپنگ سٹیشنز کو نقصان پہنچایا، جس کے باعث تیل کی برآمد کیلئے اُس انتہائی اہم راستے کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے ”عرب نیوز“ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ”پاکستان سفارتی اور عملی، دونوں حوالوں سے مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ مکمل طور پر کھڑا ہے، اور میں یہاں خاص طور پر لفظ ’عملی‘ پر زور دینا چاہتا ہوں، ہم کسی بھی حد تک جائیں گے۔“
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کا یہ عزم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں اسلام کے دو مقدس ترین مقامات کے تحفظ تک بھی پھیلا ہوا ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا: ”اِس بارے میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہونا چاہیے، ہم کسی بھی جارحیت کے خلاف مملکتِ سعودی عرب کا دفاع جاری رکھیں گے۔“
عرب نیوز کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر کے الفاظ اسلام آباد کے گزشتہ ہفتے کے عوامی مؤقف کی نسبت زیادہ واضح اور دوٹوک تھے۔ اُس وقت دفترِ خارجہ نے کہا تھا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی پاکستانی فوجی ردِعمل پر بات نہیں ہو رہی۔ معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب یا ترکیہ میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم دفترِ خارجہ نے یہ بھی کہا تھا کہ اسلام آباد ”وقت آنے پر“ اقدام کرے گا۔
سعودی اخبار نے لکھا ہے کہ 7 اگست کو طے پانے والے معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی ڈیٹرینس قوت کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ستمبر 2025 میں طے پانے والے سٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے کی بنیاد پر آگے بڑھا، جس کے تحت دونوں میں سے کسی ایک مُلک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
دونوں معاہدوں کی مکمل آپریشنل تفصیلات منظرِ عام پر نہیں لائی گئی، لہذا یہ سوال بدستور موجود ہے کہ معاہدوں کے تحت کس نوعیت کا فوجی ردِعمل درکار ہو گا۔
پاکستان کی پہلے ہی سعودی عرب میں قابلِ ذکر فوجی موجودگی ہے۔ برطانوی نیوز ایجنسی ”روئٹرز“ کے مطابق اسلام آباد نے مئی میں تقریباً 8 ہزار فوجی اہلکار، جے ایف 17 لڑاکا طیاروں کا ایک سکواڈرن، ڈرونز اور ایچ کیو 9 فضائی دفاعی نظام سعودی عرب میں تعینات کیا تھا۔
عرب نیوز کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی کیلئے ہمارا عزم غیر مشروط ہے۔ یہ عزم دونوں ممالک کے عوام، افواج اور سیاسی قیادت کے درمیان جذباتی، گہرے، تاریخی اور ناقابلِ تسخیر رشتہ سے جنم لیتا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ایسوسی ایٹڈ پریس نے رواں ہفتے رپورٹ کیا کہ حوثی باغیوں کے مسلسل حملوں کے باعث سعودی عرب کی میزائل ڈیفینس سپلائی پر دباؤ بڑھنے کے بعد ریاض نے پاکستان، برطانیہ، فرانس اور مصر سمیت کئی اتحادی ممالک سے مدد کیلئے رابطہ کیا ہے۔
سعودی اخبار نے یہ بھی لکھا ہے کہ تاحال کسی بھی مُلک نے سعودی عرب کی درخواست کے جواب میں اضافی فوجی امداد فراہم کرنے کا عوامی طور پر اعلان نہیں کیا۔
عرب نیوز کے مطابق ترجمان پاک فوج نے یہ نہیں بتایا کہ آیا سعودی عرب نے پاکستان سے مزید فوجی دستے، فضائی دفاعی نظام یا حوثی باغیوں کے خلاف براہِ راست کارروائی میں شرکت کیلئے کوئی نئی درخواست کی ہے۔ اُنہوں نے یہ بھی واضح طور پر تصدیق کی نہ تردید کہ آیا پاکستان کی جوہری ڈیٹرینس صلاحیت بھی اُن دفاعی ضمانتوں میں شامل ہے۔
عرب نیوز کے مطابق اِس معاملہ پر اسلام آباد ماضی میں مختلف اشارے دے چکا ہے۔ پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے 2025 کے دوطرفہ دفاعی معاہدے کے بعد کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر پاکستان کی جوہری صلاحیت سعودی عرب کیلئے دستیاب ہو سکتی ہے، تاہم بعد میں اُنہوں نے ”روئٹرز“ کو بتایا تھا کہ جوہری ہتھیار معاہدے کے ”دائرہ کار میں نہیں“ ہیں۔
ریاض کیلئے یہ فوجی یقین دہانی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلام آباد علاقائی تصادم کو مزید پھیلنے سے روکنے کیلئے سفارتی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ میں ثالثی کی کوشش کی ہے، جبکہ تہران تک سعودی عرب کا یہ پیغام بھی پہنچایا ہے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے حوثی باغیوں کو مملکت پر حملے روکنے پر آمادہ کرے۔
سعودی اخبار کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف اور چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بدھ کو بیجنگ کے دورے پر موجود ایرانی وزیرِ خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔ ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں نے علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا حوثی باغیوں کے حملوں کا معاملہ بھی خصوصی طور پر زیرِ بحث آیا تھا۔
عرب نیوز کے مطابق اِس رابطے کے بارے میں پوچھے جانے پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اِن تمام معاملات پر مملکتِ سعودی عرب کی محترم قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، اسلام آباد وسیع تر بحران کا مذاکرات کے ذریعہ اور پُرامن حل تلاش کرنے کیلئے خطہ کی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کر رہا ہے۔
پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کئی ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات میں ثالثی کی تھی، جن کے نتیجہ میں جون میں ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ طے پائی، جس کے ذریعہ جنگ کے خاتمہ اور ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی سے متعلق تنازعات کے حل کیلئے ایک فریم ورک قائم کیا گیا تھا، تاہم بعد کے مذاکرات دوبارہ فوجی کشیدگی بڑھنے اور معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق اختلافات کے باعث تعطل کا شکار ہو گئے۔
سعودی اخبار نے لکھا ہے کہ کہ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو ایک متفقہ دستاویز قرار دیا، جو پاکستان کے خیال میں اُس پیچیدہ فوجی صورتحال سے نکلنے کا واحد حقیقی راستہ فراہم کرتی ہے۔
جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان مستقبل قریب میں واشنگٹن اور تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی توقع رکھتا ہے تو، عرب نیوز کے مطابق، اُنہوں نے کوئی وقت نہیں بتایا۔ اُن کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد، مذاکرات کو نقصان پہنچانے والے عناصر اور مخالفین کی موجودگی کے باوجود اسلام آباد فریقین کے درمیان مشترکہ بنیاد تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔




