پاکستان نے 2007 کے بعد پہلی بار آف شور تیل و گیس تلاش کے 23 بلاکس کی نیلامی مکمل کر لی ہے۔ چار مقامی کمپنیوں کے کنسورشیم کو لائسنس دیے گئے ہیں جبکہ ترکی کی کمپنی ٹی پی اے او نے بھی شراکت داری اختیار کی ہے۔ ابتدائی سرمایہ کاری 8 کروڑ ڈالر ہوگی جو کامیاب ڈرلنگ کی صورت میں ایک ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 15 روپے 39 پیسے، ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 7 روپے 88 پیسے، لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 7 روپے 54 پیسے جبکہ کیروسین آئل کی قیمت میں 9 روپے 86 پیسے کمی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرول، ڈیزل، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی منظوری دی ہے۔ اس کمی کا مقصد عوام کو مالی راحت ریلیف فراہم کرنا اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔ اس فیصلے سے عوام کے لئے روزمرہ کے اخراجات میں کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔
وفاقی وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 4 روپے 53 پیسے اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 8 روپے 14 پیسے اضافہ کیا گیا ہے۔
Nexgen has released a Hybrid SUV at Corolla Altis money, pricing the locally-assembled Jaecoo J5 HEV from 67 million PKR ex-factory (tax-inclusive), rising to 77 million PKR for the Premium trim, with these introductory rates valid until 10 March 2026.
دونالد ترامپ اعلام کرد ایران شاید مانند هر زمان دیگری به آزادی نزدیک شده باشد و از آمادگی آمریکا برای کمک سخن گفت، در حالی که اعتراضات ضدحکومتی با وجود سرکوب شدید، خشونت مرگبار و قطع سراسری اینترنت در سراسر کشور ادامه دارد۔
US President Donald Trump has backed Iran’s protest movement, saying the country is “looking at freedom” as unrest spreads despite a deadly crackdown and internet blackout.
پاکستان اور امریکا کے مابین تیرہویں مشترکہ فوجی مشقوں انسپائرڈ گیمبٹ 2026 کا آغاز ہو گیا جن کا مقصد کاونٹر ٹیررازم میں تجربات کے تبادلہ، حربی طریقہ کار اور مؤثر انسدادِ دہشتگردی آپریشنز کی ٹیکنیک کو بہتر بنانا ہے۔
ترکی سعودی عرب اور جوہری صلاحیت رکھنے والے پاکستان کے درمیان قائم دفاعی اتحاد میں شمولیت کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات کر رہا ہے۔ یہ معاہدہ، جس میں کسی ایک رکن پر حملے کو سب پر حملہ تصور کیا جاتا ہے، نیٹو کے آرٹیکل فائیو سے مشابہ ہے اور اس میں ترکی کی شمولیت مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو نمایاں طور پر بدل سکتی ہے۔