میرے خلاف ہیروئن کے جعلی کیس میں جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ براہِ راست ملوث تھا، عمران خان نے پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر اگست میں ہی جنرل (ر) باجوہ کو توسیع دے دی تھی، میاں نواز شریف نے کہا کہ اب محاذ آرائی بےسود ہے۔
میاں نواز شریف ایک اشاہ کریں گے اور ہم فوری طور پر حکومت تحلیل کر دیں گے، نواز شریف جب تک چاہیں گے حکومت قائم رہے گی اور جب نواز شریف چاہیں گے کہ حکومت ختم ہو جائے اُس دن حکومت ختم ہو جائے گی۔
اک زرداری سب پہ بھاری نعروں کی گونج میں دوسری بار صدرِ پاکستان منتخب ہونے والے آصف زرداری کچھ لوگوں کے نزدیک ولن اور کچھ کیلئے ہیرو ہیں، انہوں نے اتنے سال سیاسی دفتر میں نہیں گزارے جتنے جیل میں گزارے ہیں۔
مجھے معلوم تھا نواز شریف وزارتِ عظمٰی نہیں لیں گے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کچھ حلقوں میں ان سے متعلق تحفظات موجود ہیں جو جمہوری نظام کو پٹڑی سے اتار سکتے ہیں، ممکن ہے کہ میاں صاحب مستقبل قریب میں جماعت کی قیادت خود سنبھال لیں گے۔
مسلم لیگ (ن) کے راہنما ذیشان ملک کو وزیرِ اعلٰی پنجاب مریم نواز شریف کا معاونِ خصوصی برائے سیاسی امور مقرر کر دیا گیا ہے جبکہ ایوانِ وزیرِ اعلٰی نے نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے، ذیشان ملک 2012 سے محترمہ مریم نواز شریف کے ہمراہ سیاسی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔
Zulfikar Bukhari's remarks to Reuters, describing a freed Imran Khan as unwilling to confront army chief Asim Munir, don't just shift PTI's tone. Coming from one of Khan's closest aides, they quietly kill the "dut kar khara hai kaptaan" promise that has held the party's base together for two years.
The Supreme Court has ordered the transfer of Imran Khan from Adiala Jail to Shifa International Hospital for medical assessment and treatment, while directing that his health condition should not be used for political activity or media campaigning.
Countries do not enter mutual defence commitments with partners whose reliability they doubt, because the cost of misjudging that is measured in soldiers. Riyadh and Ankara have decided Pakistan is a state whose word will hold when it is expensive to hold it.
Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔