امریکہ کو فلسطین کے خلاف اسرائیل کی حمایت پر سعودی عرب اور مصر کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے، سعودی ولی عہد نے امریکی پالیسی کی براہِ راست مخالفت کی ہے، عبدالفتاح السیسی نے غزہ میں اسرائیلی حملوں کو دفاع کے حق سے تجاوز قرار دیا ہے۔
In light of recent violent escalations, Saudi Arabia condemns provocations by Israel and calls for an immediate ceasefire, reiterating its support for a two-state solution to the Israeli-Palestinian conflict.
سابق برازیلین صدر بولسونارو کیلئے سب سے بڑا خطرہ ان گھڑیوں کو غبن کرنے کے بعد فلاڈیلفیا کے ایک شاپنگ مال میں فروخت کرنے کا معاملہ ہے جو سعودی شاہی خاندان کی طرف سے بطور تحفہ ملی تھیں، جیئر میسیاس بولسونارو نے مبینہ طور پر ان گھڑیوں کو فروخت کر کے کم از کم 68 ہزار ڈالرز حاصل کیے۔
پاکستان کو شمسی توانائی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت کم و بیش 25 بلین ڈالرز کے معاہدوں کی توقع ہے، پاکستان کی دفاعی صنعتیں بھی سرمایہ کاری کیلئے کھلی ہیں جبکہ پاکستان زراعت کیلئے غیر کاشت شدہ سرکاری زمین طویل عرصہ کیلئے لیز پر دینے کیلئے بھی تیار ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای یورپ میں لگژری پراپرٹیز و فائیو سٹار ہوٹلز سمیت وسیع سرمایہ کاری سلطنت رکھتے ہیں جو لندن سے جرمنی و سپین تک ہے۔ مالی طاقت خلیج فارس کی شپنگ سے سوئس بینک اکاؤنٹس و برطانوی پراپرٹیز تک 138 ملین ڈالرز سے زیادہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال، پاکستان کی جانب سے مشکل حالات میں سعودی عرب کیلئے مکمل یکجہتی و حمایت کا اظہار، وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔