پاکستان نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کر لیا۔ اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ جب تک افغان سرزمین سے سرحد پار دہشتگردی میں ملوث عناصر کی پناہ گاہیں اور پشت پناہی ختم نہیں ہوتی تب تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
حذّر وزير الخارجية الباكستاني إسحاق دار نظيره الإيراني من شنّ أي هجمات على السعودية، مشيراً في ذلك إلى اتفاق الدفاع المشترك بين باكستان والسعودية. وفي وقتٍ سابق، أعرب رئيس الوزراء شهباز شريف خلال اتصال هاتفي مع ولي العهد السعودي عن تضامنٍ كامل مع المملكة.
پاکستانی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب کو سعودی عرب پر حملوں سے گریز کرنے کی تنبیہ کر دی جس میں پاک سعودی باہمی دفاعی معاہدے کا حوالہ بھی دیا گیا۔ قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کے ساتھ فون کال پر مکمل یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔
ایران نیوکلیئر ہتھیار نہ بنانے پر رضامند تھا، پاکستان نے کہا کہ نیوکلیئر ہتھیاروں کا پُرامن استعمال سب کا حق ہے، پاکستان نے ایران پر حملوں کی مذمت کی، ایران خلیجی ممالک پر حملے نہ کرتا تو ہم اُن ممالک کو ساتھ ملا کر مؤثر کردار ادا کر سکتے تھے۔
Davos was not a redemption arc but a stress test. Pakistan did not arrive seeking applause or indulgence, but to demonstrate whether discipline could finally replace denial. What mattered was constraint—and the recognition that the old escape routes no longer exist.
Pakistan says the United States and Iran have expressed confidence in its role as a potential facilitator for talks, with Islamabad saying it would be honoured to host negotiations in the coming days.
امریکا و ایران دونوں نے ممکنہ مذاکرات میں سہولت کاری کیلئے پاکستان پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ پاکستان آئندہ چند روز میں ممکنہ مذاکرات میں میزبانی و سہولتکاری کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزراءِ خارجہ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے خطہ میں امن کیلئے پاکستانی کوششوں کی بھرپور حمایت اور تائید کی۔
امریکا ایران کو مذاکراتی عمل تک لانے والا پاکستان سفارتی محاذ پر غیر معمولی اہمیت حاصل کر رہا ہے جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار نمایاں ہے۔ پاکستان خطہ کے توازن پر اثرانداز ہوتے ہوئے واشنگٹن، تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان پُل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
Pakistan is preparing to host the foreign ministers of Saudi Arabia, Turkey and Egypt for bilateral meetings and a four-country diplomatic session in Islamabad that is expected to conclude with a joint communiqué and possibly a meeting with Prime Minister Shehbaz Sharif.
مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ اتوار کی صبح، سعودی وزیرِ خارجہ سہ پہر پاکستان پہنچیں گے۔ شام کو چاروں وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات ہو گی جبکہ عشائیہ کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔