اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان خطہ میں واحد ملک ہے جس نے ایران پر حملوں کی کھل و مذمت کی، ایران نیوکلیئر ہتھیار نہ بنانے پر راضی تھا، پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ نیو کلیئر طاقت کا پُرامن استعمال سب کا حق ہے، اگر ایران خلیجی ممالک میں حملے نہ کرتا تو ہم اُن ممالک کو ساتھ ملا کر مؤثر کردار ادا کر سکتے تھے۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اسرائیل جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے، پاکستان نے اقوامِ متحدہ میں عالمی تنازعات کے پُرامن حل کی بات کی، میں نے امریکی سیکرٹری سٹیٹ مارکو روبیو سے ملاقات کے دوران بھی ایران کے حوالہ سے بات کی، پاکستان امریکا و ایران تنازعہ کے پُرامن حل کیلئے کوششیں کرتا رہا ہے۔
سینیٹر اسحاق ڈار نے بتایا کہ امریکا کو ایران کی جانب سے نیو کلیئر ہتھیاروں کی تیاری کے حوالہ سے تشویش تھی جبکہ ایران نیو کلیئر ہتھیار تیار نہ کرنے پر رضامند ہو گیا تھا، پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ نیو کلیئر ہتھیاروں کا پُرامن استعمال تو سب کا حق ہے، پاکستان میں احتجاج کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان دل و جان کے ساتھ ایران کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ امریکا اور ایران نے مذاکرات کیلئے اسلام آباد پر اعتماد ظاہر کیا، پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا تھا، ایران کے معاملہ پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی بہت کوششیں کی ہیں، پاکستان کی جانب سے ایران کیلئے سپورٹ کے باعث ہی کچھ عرصہ قبل ایران کی پارلیمنٹ میں پاکستان کا شکریہ ادا کیا گیا۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان واحد ملک ہے جس نے ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کی مذمت کی حالانکہ ہمیں معلوم ہے کہ کچھ حلقوں کی جانب سے مزاحمت سامنے آتی ہے، میں نے حملوں کے بعد 15 منٹس کے اندر مذمتی بیان جاری کیا جس کو ویب سائٹ اور ٹویٹر پر بھی دیکھا جا سکتا ہے، ایران ہمارا برادر ملک ہے اور ہمین بہت عزیز ہے۔
خلیجی ممالک میں ایرانی حملوں کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے پاکستانی نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایران نے جنگ شروع ہونے کے فوری بعد عرب ممالک پر حملے شروع کر دیئے جس کے بارے میں کہا گیا کہ امریکی اڈوں پر حملے کیے گئے ہیں تاہم تفصیلات سامنے آ چکی ہیں کہ ائیرپورٹ اور انفراسٹرکچر پر بھی کیے گئے جن میں ایک پاکستانی بھی شہید ہوا ہے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ اگر ایران خلیجی ممالک پر حملے نہ کرتا تو ہم اُن ممالک کو بھی ساتھ ملا کر ایران کیلئے ایک مؤثر کردار ادا کر سکتے تھے لیکن اب پاکستان خطہ میں واحد ملک ہے جو ایران کیلئے بات کر رہا ہے۔




