پاکستان کی انسانی حقوق کے حوالہ سے کارکردگی میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے، پاکستان نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ تعلیم اور صحت پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔
اکستان کے معاملات بہتری کی جانب گامزن ہیں، مستقبل میں معاشی حالات مزید بہتر ہوں گے، پاکستان کی معیشت اب پہلے سے بہتر ہے جبکہ جلد ہی مزید استحکام پیدا ہو گا
عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاہدے نے پاکستان میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے اور مارکیٹس میں ان کی واپسی دیکھنے میں آ رہی ہے تاہم سرمایہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب پاکستان کے پاس غلطیوں کی گنجائش بہت کم رہ گئی ہے۔
آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، اس معاہدے کیلئے وزیراعظم صاحب نے بہت محنت کی ہے اور اس حوالے سے پچھلے 10 دن بہت اہم تھے، پاکستان سری لنکا بننے والا ملک نہیں ہے، اگر آئی ایم ایف نہ بھی ہوتا تب بھی ہم ڈیفالٹ نہ کرتے، ہمارے پاس پلان بی موجود تھا۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
Pakistan received $3.5 billion in workers’ remittances in April 2026, with Saudi Arabia and the UAE leading inflows and cumulative FY26 remittances reaching $33.9 billion.
Prime Minister Shehbaz Sharif says Pakistan has received Iran’s response, signalling that Islamabad’s mediation channel remains active as regional diplomacy enters a sensitive phase.
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث عوام سراپا احتجاج، وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا۔ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔