ادشاہِ اردن شاہ عبداللّٰہ دوم 2 روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے جہاں وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف زرداری نے اُن کا استقبال کیا۔ وزیراعظم ہاؤس میں پُروقار استقبالیہ تقریب کا انعقاد، شاہ عبداللّٰہ دوم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
عمران خان کی افغان پالیسی نے قومی سلامتی کو شدید خطرے میں ڈال دیا۔ سفارتی احتیاط اور ریاستی حکمت کے بجائے انہوں نے قومی مفاد کو ذاتی مقبولیت کے تابع کر دیا، یوں وہ تمام رکاوٹیں کمزور ہو گئیں جو دشمن کی واپسی کے راستے میں حائل تھیں۔ آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، وہ پالیسی کی اصلاح نہیں بلکہ تاخیر سے شروع ہونے والا ایک مشکل اور ناگزیر ریسکیو مشن ہے۔
پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان نے ہمیشہ دوستی اور یکجہتی کا ثبوت دیا اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ تینوں ممالک کے عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ بھارت کے ساتھ جنگ میں ترکیہ اور آذربائیجان کی حکومتیں پاکستان کے ساتھ کھڑی رہیں۔
پاکستان کے جے ایف 17 تھنڈر طیارے اور فوجی اہلکار آذربائیجان کی وکٹری ڈے پریڈ میں 8 نومبر کو باکو میں شرکت کریں گے۔ یہ پریڈ آذربائیجان کی 44 روزہ جنگی فتح کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہو رہی ہے۔ پاکستان کی شرکت دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے عسکری اور سفارتی تعلقات کی مضبوطی کی علامت ہے۔
Pakistan’s JF-17 Thunder fighter jets and military personnel are set to join Azerbaijan’s Victory Day Parade in Baku on 8 November, commemorating the fifth anniversary of the 44-day war victory. The participation highlights a growing strategic partnership between Islamabad and Baku rooted in military collaboration, shared diplomacy, and regional solidarity.
Pakistan says the United States and Iran have expressed confidence in its role as a potential facilitator for talks, with Islamabad saying it would be honoured to host negotiations in the coming days.
امریکا و ایران دونوں نے ممکنہ مذاکرات میں سہولت کاری کیلئے پاکستان پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ پاکستان آئندہ چند روز میں ممکنہ مذاکرات میں میزبانی و سہولتکاری کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزراءِ خارجہ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے خطہ میں امن کیلئے پاکستانی کوششوں کی بھرپور حمایت اور تائید کی۔
امریکا ایران کو مذاکراتی عمل تک لانے والا پاکستان سفارتی محاذ پر غیر معمولی اہمیت حاصل کر رہا ہے جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار نمایاں ہے۔ پاکستان خطہ کے توازن پر اثرانداز ہوتے ہوئے واشنگٹن، تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان پُل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
Pakistan is preparing to host the foreign ministers of Saudi Arabia, Turkey and Egypt for bilateral meetings and a four-country diplomatic session in Islamabad that is expected to conclude with a joint communiqué and possibly a meeting with Prime Minister Shehbaz Sharif.
مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ اتوار کی صبح، سعودی وزیرِ خارجہ سہ پہر پاکستان پہنچیں گے۔ شام کو چاروں وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات ہو گی جبکہ عشائیہ کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔