رف مسلم لیگ (ن) کی وزیرِ اعلٰی نہیں ہوں بلکہ پنجاب کے 12 کروڑ عوام کی وزیرِ اعلٰی ہوں، میرے دل میں کسی کیلئے انتقام کا جذبہ نہیں ہے، مجھے اس میں آپ سب کا ساتھ چاہیے، انشاءاللّٰه ہم ایک بہتر پنجاب بنائیں گے۔
مسلم لیگ (ن) قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت، مسلم لیگ (ن) کو 24 جبکہ پیپلز پارٹی کو 14 مخصوص و اقلیتی نشستیں الاٹ، مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی مجموعی تعداد 108 جبکہ پیپلز پارٹی کے ارکان کی مجموعی تعداد 68 ہو گئی، سنی اتحاد کونسل کے 81 ارکان ہیں۔
اس بات پر قائم ہوں کہ نواز شریف چوتھی بار وزیراعظم منتخب ہوں گے اور ہم ان کی قیادت میں پاکستان کو لگے زخم بھریں گے، ہم پر دھاندلی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں حالانکہ ہماری جماعت کے کئی سینئر راہنما آزاد امیدواروں سے ہار گئے، مسلم لیگ (ن) کے پاس مرکز اور پنجاب میں اکثریت ہے۔
عمران خان اس قابل ہی نہیں ہیں کہ کوئی حکومت چلا سکیں، وہ بطور وزیراعظم سندھ حکومت کو اہمیت نہیں دیتے تھے، وہ سیلاب کے دوران بھی سندھ نہ آئے، شہباز شریف نے بطور وزیراعظم ہماری بات سنی اور ساتھ لے کر چلے۔
The PML(N) and PPP have agreed to form a coalition government at both the federal and Punjab levels, following talks between Shehbaz Sharif and PPP leaders Bilawal Bhutto Zardari and Asif Ali Zardari, aiming to tackle Pakistan's political and economic challenges through unity and collaboration.
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔
Iranian President Masoud Pezeshkian will visit Pakistan on June 23 for a one-day official trip following Pakistan and Qatar’s mediation in the latest Iran-US talks in Switzerland.
Pakistan’s role at the Lake Lucerne Summit marked a rare diplomatic success, placing Islamabad alongside Qatar as a mediator in the US-Iran process. Shehbaz Sharif gave the effort political direction, while Field Marshal Asim Munir added security credibility.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔