آرٹیکل 63 اے تشریح سے متعلق نظرِثانی کیس 2 سال سے زائد عرصہ سے زیرِ التواء ہے، ججز کمیٹی اجلاس میں کوئی رکن شریک نہیں ہونا چاہتا تو یہ اس کی مرضی ہے، سپریم کورٹ کام کرنا بند نہیں کر سکتی، ہمیں یہاں صرف مقدمات کے فیصلے کرنے کی تنخواہ ملتی ہے۔
مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے میں بار بار آئین کو توڑا گیا ہے۔ عدلیہ کبھی کسی مارشل لاء کے سامنے کھڑی نہیں ہوئی مگر پارلیمنٹ کی آئینی ترمیم پر شور برپا ہے، عدلیہ کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں مگر آئینی بالادستی پر سمجھوتا نہیں کر سکتے۔
آئین کو ایک آنکھ کی لرزش اور ہونٹوں کی جنبش سے اڑایا جاتا رہا، نواز شریف اور یوسف گیلانی کو 58 ٹو بی سے گھر بھیجا گیا، ہم آئینی عدالت بنا کر رہیں گے تاکہ کسی اور وزیراعظم کو تختہ دار پر نہ لٹکایا جائے، آئین کی بالادستی کی جنگ لڑتا رہوں گا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مخصوص نشستوں کے کیس کے فیصلہ سے متعلق الیکشن کمیشن اور پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواستوں پر 8 ججز کی جانب سے جاری کیے گئے وضاحتی حکم پر رجسٹرار سپریم کورٹ سے 9 اہم سوالات کا جواب طلب کر لیا ہے۔
میثاقِ جمہوریت کے تحت آئینی عدالت قائم ہونی چاہیے جس کا مینڈیٹ آئینی معاملات کی تشریح ہو گا، ججز کی تعیناتی کا نظام بھی درست کرنا ہے، ججز کا کام ڈیم بنانا یا قیمتیں طے کرنا نہیں بلکہ آئینی ذمہ داریاں پوری کرنا ہے، ججز تقرری عمل میں شفافیت بےنظیر بھٹو کا مطالبہ تھا۔
Zulfikar Bukhari's remarks to Reuters, describing a freed Imran Khan as unwilling to confront army chief Asim Munir, don't just shift PTI's tone. Coming from one of Khan's closest aides, they quietly kill the "dut kar khara hai kaptaan" promise that has held the party's base together for two years.
The Supreme Court has ordered the transfer of Imran Khan from Adiala Jail to Shifa International Hospital for medical assessment and treatment, while directing that his health condition should not be used for political activity or media campaigning.
Countries do not enter mutual defence commitments with partners whose reliability they doubt, because the cost of misjudging that is measured in soldiers. Riyadh and Ankara have decided Pakistan is a state whose word will hold when it is expensive to hold it.
Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔