ACROSS TT

News

Lahore named SCO Tourism and Cultural Capital

Lahore has been designated the Shanghai Cooperation Organisation's Tourism and Cultural Capital for 2026-2027, under a resolution signed at the same Bishkek summit where Pakistan assumed the SCO chairmanship, with four flagship cultural events planned in the city.

Pakistan assumes SCO chairmanship for 2026-27

Pakistan formally assumed the chairmanship of the SCO Council of Heads of State on September 1, taking over from Kyrgyzstan at the conclusion of the Bishkek summit. It's Pakistan's first time holding the role since joining as a full member in 2017, and Islamabad will host the organisation's 2027 summit.

First Makkah Defence Alliance secretary general to be from Pakistan

The defence pact signed by Pakistan, Saudi Arabia and Türkiye three weeks ago will be known as the Makkah Defence Alliance, its secretariat has been established in Riyadh, and its first secretary general will be appointed from among Pakistanis, Turkish Foreign Minister Hakan Fidan announced in Istanbul on Monday.

Pakistan welcomes Hague ruling that Indus treaty remains in force

The Court of Arbitration in The Hague has issued its Award on the Status of the Indus Waters Treaty and its Decision on Interim Measures, finding that India's decision to place the treaty in abeyance is not permissible and that the accord remains fully in force, according to Pakistan's Ministry of Information and Broadcasting. Neither text has been published yet, with publication expected within about a week.

Pakistan, Saudi Arabia and Türkiye hold first Makkah pact meeting

Pakistan, Saudi Arabia and Türkiye convene the first session of the committee created under the Makkah Joint Defence Agreement in Istanbul on Monday, each sending their foreign minister, defence minister and military chief. It is the first institutional step since the pact was signed three weeks ago, and the agenda covers defence capabilities, interoperability and, according to Pakistani reporting, joint production.
NewsroomJudicialسپریم کورٹ کام کرنا بند نہیں کر سکتی، ہمیں مقدمات کے فیصلے...

سپریم کورٹ کام کرنا بند نہیں کر سکتی، ہمیں مقدمات کے فیصلے کرنے کی تنخواہ ملتی ہے۔ چیف جسٹس

آرٹیکل 63 اے تشریح سے متعلق نظرِثانی کیس 2 سال سے زائد عرصہ سے زیرِ التواء ہے، ججز کمیٹی اجلاس میں کوئی رکن شریک نہیں ہونا چاہتا تو یہ اس کی مرضی ہے، سپریم کورٹ کام کرنا بند نہیں کر سکتی، ہمیں یہاں صرف مقدمات کے فیصلے کرنے کی تنخواہ ملتی ہے۔

spot_img

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کام کرنا بند نہیں کر سکتی، ہمیں یہاں صرف مقدمات کے فیصلے کرنے کی تنخواہ ملتی ہے، اگر ججز کمیٹی اجلاس میں کوئی رکن شریک نہیں ہونا چاہتا تو یہ اس کی مرضی ہے، نظرِثانی کیس 2 سال سے زائد عرصہ سے زیرِ التواء ہے، ایک بار بینچ بن چکا ہو تو کیس سننے سے معذرت صرف عدالت میں ہی ہو سکتی ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست پر آج پہلی سماعت ہوئی جس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس مظر عالم پر مشتمل 4 رکنی بینچ کمرہِ عدالت میں پہنچا جبکہ بینچ کے رکن جسٹس منیب اختر کمرہِ عدالت میں نہیں آئے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ کیس کے حوالے سے لارجر بینچ آج نہیں بنا تھا، کیس کا فیصلہ ماضی میں 5 رکنی بینچ نے سنایا تھا، قانون کا تقاضا ہے کہ نظرِثانی اپیل پر سماعت وہی بینچ کرے، سابق چیف جسٹس کی جگہ میں نے پوری کی، جسٹس اعجاز الاحسن کی جگہ جسٹس امین الدین کو شامل کیا گیا جبکہ ہم جا کر جسٹس اختر منیب سے درخواست کریں گےکہ وہ بینچ میں بیٹھیں۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جسٹس منیب اختر کا آج کی سماعت میں شامل نہ ہونا ان کی مرضی تھی، ہم کل دوبارہ اس نظرثانی کیس کی سماعت کریں گے، امید کرتے ہیں کہ جسٹس منیب اختر کل سماعت میں شامل ہوں، ہم جسٹس منیب کو راضی کرنے کی کوشش کریں گے ورنہ بینچ کی تشکیلِ نو ہو گی، امید ہے جسٹس منیب اختر دوبارہ بینچ میں شامل ہو جائیں گے، جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل ہوتے ہیں یا نہیں، دونوں صورتوں میں کل کیس کی سماعت ہو گی۔

جسٹس منیب اختر نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط تحریر کر دیا جس کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کمرہِ عدالت میں پڑھ کر سنایا۔
جسٹس منیب اختر نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ میں آج اس کیس میں شامل نہیں ہو سکتا، میرا خط اس نظرِثانی کیس میں ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے، پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی نے یہ بینچ تشکیل دیا ہے، کمیٹی کے تشکیل کردہ بینچ کا حصہ نہیں بن سکتا، بینچ میں بیٹھنے سے انکار نہیں کر رہا، بینچ میں شامل نہ ہونے کا غلط مطلب نہ لیا جائے اور میرے خط کو نظرِثانی کیس ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جسٹس منیب اختر کا خط عدالتی فائل کا حصہ نہیں بن سکتا، ایسے خط کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی روایت نہیں ہے، مناسب ہوتا کہ جسٹس منیب اختر بینچ میں آ کر اپنی رائے دیتے، میں نے ہمیشہ اختلافی رائے کی حوصلہ افزائی کی ہے، نظرِثانی کیس 2 سال سے زائد عرصہ سے زیرِ التواء ہے۔

عدالتِ عظمٰی کے منصفِ اعظم نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 63 اے کا مقدمہ بڑا اہم ہے، جسٹس منیب اختر کی رائے کا احترام ہے لیکن ایک بار بینچ بن چکا ہو تو کیس سننے سے معذرت صرف عدالت میں ہی ہو سکتی ہے۔

دورانِ سماعت پی ٹی آئی کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر روسٹرم پر آئے اور انہوں نے کمیٹی پر تحفظات کا اظہار کر دیا، انہوں نے کہا کہ کمیٹی تب ہی بینچ بنا سکتی ہے جب تینوں میمبرز موجود ہوں۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ کے قانون کی یہ نیت نہیں کہ آئینی حقوق کے فیصلے نہ ہوں اور سپریم کورٹ ساکت ہو جائے، اگر کوئی رکن شریک نہیں ہونا چاہتا تو یہ اس کی مرضی ہے، سپریم کورٹ کام کرنا بند نہیں کر سکتی، ہمیں یہاں صرف مقدمات کے فیصلے کرنے کی تنخواہ ملتی ہے۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق فیصلے پر نظرِثانی کی درخواستوں پر سماعت کل صبح ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دی۔

یاد رہے کہ 17 مئی 2022 کو سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلے میں کہا تھا کہ منحرف رکنِ اسمبلی کا پارٹی پالیسی کے برخلاف دیا گیا ووٹ شمار نہیں ہو گا جبکہ تاحیات نااہلی یا نااہلی کی مدت کا تعین پارلیمنٹ کرے، اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کی تھی اور فیصلہ 2 کے مقابلے میں 3 کی برتری سے سنایا گیا تھا۔

اس معاملے پر مختلف نظرِثانی کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں لیکن ان درخواستوں پر سماعت نہیں ہوئی تھی، یہ درخواستیں 2 سال سے زائد عرصہ سے زیرِ التواء تھیں۔

Read more

میاں نواز شریف! یہ ملک بہت بدل چکا ہے

مسلم لیگ ن کے لوگوں پر جب عتاب ٹوٹا تو وہ ’نیویں نیویں‘ ہو کر مزاحمت کے دور میں مفاہمت کا پرچم گیٹ نمبر 4 کے سامنے لہرانے لگے۔ بہت سوں نے وزارتیں سنبھالیں اور سلیوٹ کرنے ’بڑے گھر‘ پہنچ گئے۔ بہت سے لوگ کارکنوں کو کوٹ لکھپت جیل کے باہر مظاہروں سے چوری چھپے منع کرتے رہے۔ بہت سے لوگ مریم نواز کو لیڈر تسیلم کرنے سے منکر رہے اور نواز شریف کی بیٹی کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے۔

Celebrity sufferings

Reham Khan details her explosive marriage with Imran Khan and the challenges she endured during this difficult time.

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
spot_img

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.