پاکستان افغانستان کشیدگی: امریکہ کی جانب سے پاکستان کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت۔ امریکی انڈر سیکرٹری ایلیسن ہُکر نے پاکستان کی سیکرٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ سے رابطہ کر کے کہا کہ امریکہ طالبان حملوں کے مقابلے میں پاکستان کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے۔
افغان طالبان رجیم پاکستان اور دہشتگردی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے، پوری دنیا نے افواجِ پاکستان کا فوری، مؤثر اور منہ توڑ ردعمل دیکھا۔ پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارتی کردار ہے۔ افواجِ پاکستان ہر محاذ پر چوکس ہیں۔
Pakistan’s targeted airstrikes inside Afghanistan have triggered more than cross-border tension. According to sources, a high-level Taliban conference in Kabul exposed rare and deepening fractures within the regime, with disagreements over Pakistan policy, militant sanctuaries, and even leadership succession.
پاکستان کی افغانستان کے اندر ٹی پی و حقانی نیٹ ورک کے دہشتگرد عناصر اور اُن کے سہولت کاروں کے کیپمس اور محفوظ پناہ گاہوں پر انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیاں؛ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی حملوں میں مارے جانے والے 40 سے زائد دہشتگردوں کے نام سامنے آ گئے۔
جوڑ اور بنوں میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان کا سخت ردعمل، فتنہ الخوارج اور داعش خراسان کے 7 ٹھکانے سرحدی علاقے میں نشانہ بنا دیے گئے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ شہریوں کی سلامتی اولین ترجیح ہے اور افغان عبوری انتظامیہ اپنی ذمہ داری پوری کرے۔
انتهت الثقة في إيران بالكامل. السعودية لا تخشى المواجهة، وتحتفظ بحقها في الرد العسكري عند الضرورة. وإذا كانت طهران تعتقد أن دول الخليج لا تملك القدرة على الرد، فهي واهمة. وإيران لن تتوقف ما لم تواجه رداً قوياً وحازماً
ایران پر اعتبار ختم ہو چکا۔ سعودی عرب تصادم سے نہیں ڈرتا، ضرورت پڑنے پر فوجی جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔ ایران اگر سمجھتا ہے کہ خلیجی ممالک جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو وہ غلطی پر ہے۔ ایران مضبوط مقابلہ کا سامنا کیے بغیر نہ رُکے گا۔
Joe Kent, Director of the National Counterterrorism Center, has resigned with immediate effect, stating that he cannot support the US war in Iran, arguing that Tehran posed no imminent threat, and questioning the basis on which the conflict has been pursued.
Israel says a targeted strike killed Ali Larijani, one of Iran’s most senior security figures, but Tehran had not confirmed the claim at the time of reporting. If verified, it would mark one of the biggest direct blows yet to Iran’s leadership in the current conflict.
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے طالبان سے متعلق پابندیوں کی فہرست اپڈیٹ کر دی۔ عبدالغنی برادر، سراج الدین حقانی، امیر خان متقی سمیت 22 اہم ناموں سے متعلق معلومات میں ترامیم کی گئیں۔ یہ اقدام واضح کرتا ہے کہ عالمی برادری نے طالبان کا ماضی فراموش نہیں کیا۔