پاکستان 30 مارچ کو چار ملکی اہم اجلاس کی میزبانی کرے گا جس میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ شریک ہوں گے۔ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت مشاورتی اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سے متعلق اہم پیش رفت متوقع ہے۔
امریکا ایران جنگ کے دوران دنیا میں پاکستان کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ بھارتی تنہائی کی وجہ مودی شخصی سفارتکاری ہے۔ بھارت اور افغانستان کے علاوہ کوئی پاکستان کو ظالم ریاست نہیں کہتا۔ آر ایس ایس کا پاکستان توڑنے کا خواب پورا نہیں ہو گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی درخواست پر ایران کی انرجی تنصیبات کی تباہی کیلئے امریکی حملے مزید 10 روز تک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان پسِ پردہ سفارتی روابط میں اہم کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
امریکا ایران جنگ بندی کیلئے پاکستان کے سفارتی کردار اور ثالثی کی پیشکش نے بھارت کیلئے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پاکستان نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے تو پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔
پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کیلئے پس پردہ سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطے، شہباز شریف کی تہران سے گفتگو، اور اسحاق ڈار کی علاقائی سفارت کاری نے اسلام آباد کو ایک ممکنہ مذاکراتی مرکز کے طور پر نمایاں کر دیا ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
Pakistan received $3.5 billion in workers’ remittances in April 2026, with Saudi Arabia and the UAE leading inflows and cumulative FY26 remittances reaching $33.9 billion.
Prime Minister Shehbaz Sharif says Pakistan has received Iran’s response, signalling that Islamabad’s mediation channel remains active as regional diplomacy enters a sensitive phase.
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث عوام سراپا احتجاج، وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا۔ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔