تجزیہ: فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران بحران میں پاکستان کو ایک مؤثر سفارتی ثالث کے طور پر منوا لیا، دی گارڈین

فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران بحران میں پاکستان کے سب سے اہم سفارتی چہرے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ تہران، واشنگٹن اور خلیجی دارالحکومتوں کے درمیان رابطہ کاری میں ان کا کردار مرکزی رہا، جبکہ پاکستان ایک غیر متوقع مگر مؤثر ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔

spot_imgspot_img

لندن (دی تھرسڈے ٹائمز) — فیلڈ مارشل عاصم منیر جب بدھ کی شام تہران پہنچے تو طیارے سے اترتے ہی ایرانی وزیرِ خارجہ اور چیف مذاکرات کار عباس عراقچی نے ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ مکمل فوجی وردی میں ملبوس پاکستان کے طاقتور سپہ سالار ایک غیر معمولی منظر پیش کر رہے تھے، گویا وہ جنگ کے سائے میں امن کا پیغام لے کر آئے ہوں۔ مگر دی گارڈین کے مطابق یہی وہ کردار تھا جسے وہ ادا کرنے کے ارادے سے ایران پہنچے تھے۔

دی گارڈین نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ عاصم منیر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب بہت سے حلقے اسے پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کیلئے جاری ثالثی کی کوششوں کو بچانے کی آخری بڑی کاوش کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ اس سے صرف چار روز قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد سے روانہ ہوئے تھے، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان اکیس گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والی بات چیت کسی حتمی معاہدے پر منتج نہ ہو سکی تھی۔

گارڈین رپورٹ کے مطابق تعطل اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر بحری ناکہ بندی نافذ کر دی، جس سے جنگ کے مزید پھیلنے کا خطرہ پیدا ہوا۔ تاہم اسی تناؤ بھرے ماحول میں ٹرمپ نے عاصم منیر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات جاری رکھنے کیلئے “شاندار” کردار کا حامل قرار دیا۔ دی گارڈین کے مطابق بدھ کی شب پاکستان کے آرمی چیف تہران ایک نئی امریکی تجویز کے ساتھ پہنچے، جس میں اگلے ہفتے اسلام آباد میں مذاکرات کے ایک نئے دور کیلئے ایک ممکنہ فریم ورک شامل تھا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان ایک غیر متوقع مگر مرکزی سفارتی کردار کے طور پر سامنے آتا دکھائی دیتا ہے۔ دی گارڈین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان رابطے قائم رکھنے میں پاکستان نے ایک ایسے بروکر کا کردار ادا کیا ہے جس کی توقع کچھ عرصہ پہلے تک بہت کم لوگوں کو تھی، اور اس پورے عمل کے پیچھے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایک بنیادی قوت سمجھا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کے آرمی چیف ان چند افراد میں شامل رہے جو امریکی اور ایرانی قیادت کے درمیان براہِ راست رابطہ ممکن بنانے، پیغامات پہنچانے، اور دونوں جانب ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر کام کرنے میں کامیاب ہوئے۔

اس سفارتی عمل کی ایک اہم علامت یہ بھی تھی کہ اس کے اصل اعصاب اسلام آباد سے زیادہ راولپنڈی میں دکھائی دیے۔ دی گارڈین کے مطابق وسیع طور پر یہی سمجھا جا رہا ہے کہ مذاکرات کا عملی مرکز پارلیمان کے دارالحکومت اسلام آباد کے بجائے فوجی مرکز راولپنڈی رہا، جہاں سے اس رابطہ کاری کی سمت طے ہوتی رہی۔

پاکستان کی سابق سفیر ملیحہ لودھی، جنہوں نے اقوامِ متحدہ، امریکا اور برطانیہ میں پاکستان کی نمائندگی کی، نے دی گارڈین سے گفتگو میں کہا کہ فیلڈ مارشل منیر ہی اس پورے عمل کی محرک قوت ہیں، اور ان کے بغیر یہ کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی تھی۔ ان کے مطابق دفترِ خارجہ اس میں محض ایک ثانوی شراکت دار ہے، جبکہ ایران اور امریکا دونوں کو عاصم منیر پر اعتماد حاصل ہے۔ ان کے بقول پاکستانی وزرا کا کردار موجود ضرور ہے، مگر وہ بنیادی نہیں بلکہ تکمیلی نوعیت کا ہے۔

دی گارڈین نے اسی تناظر میں یہ بھی لکھا کہ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد جے ڈی وینس اور عاصم منیر کی گفتگو اس وسیع تر سفارتی منظرنامے کا حصہ تھی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے عالمی سطح پر جو ہنگامی سفارتی سرگرمی دیکھی گئی، اس میں منیر کے ٹیلی فونک رابطوں نے فیصلہ کن اہمیت اختیار کی۔ انہی کوششوں کے نتیجے میں عین آخری لمحے پر جنگ بندی کی ایک راہ ہموار ہوئی، خصوصاً اس کے بعد جب ٹرمپ نے ایران کو یہ سخت پیغام دیا تھا کہ اگر اس نے معاہدے کی راہ نہ اپنائی تو اس کی تہذیب “مر جائے گی”۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ٹرمپ نے براہِ راست عاصم منیر پر زور دیا کہ وہ ایرانی قیادت کے بارے میں اپنی سمجھ بوجھ، اپنے رابطوں اور اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے کسی قابلِ عمل راستے تک پہنچنے میں مدد دیں۔ اور جب ہفتے کے روز امریکی اور ایرانی وفود اسلام آباد میں آمنے سامنے بیٹھے، تو دی گارڈین کے مطابق عاصم منیر محض پس منظر میں نہیں تھے بلکہ کمرے میں تیسرے فریق کے طور پر موجود تھے۔

اسی دوران پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کا سفارتی دورہ کیا تاکہ پاکستان کی امن کوششوں کیلئے علاقائی حمایت کو مضبوط بنایا جا سکے، جبکہ عاصم منیر ایران میں ایک اہم پیغام رساں اور مذاکرات کار کے طور پر متحرک رہے۔ یوں اسلام آباد اور راولپنڈی نے بیک وقت سیاسی اور عسکری دونوں سطحوں پر ایک مشترکہ سفارتی حکمتِ عملی اپنائی۔

دی گارڈین کے مطابق پاکستان میں یہ کوئی نئی بات نہیں کہ آرمی چیف، اگرچہ ایک غیر منتخب منصب پر فائز ہوتا ہے، لیکن ملکی خارجہ پالیسی کے تعین میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے اور بیرونی دنیا کے سامنے ملک کا سب سے مؤثر چہرہ بن جاتا ہے۔ رپورٹ میں یہ نکتہ بھی نمایاں کیا گیا کہ امریکی صدور ایک طویل عرصے سے پاکستان کے منتخب سویلین رہنماؤں کے مقابلے میں فوجی قیادت سے معاملات کرنے کو زیادہ مؤثر سمجھتے رہے ہیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق عاصم منیر ہمیشہ سے ایک نمایاں بین الاقوامی سفارت کار کے طور پر نہیں دیکھے جاتے تھے۔ دی گارڈین کے مطابق 2022 میں اپنے تقرر کے بعد ان کی توجہ زیادہ تر داخلی معاملات پر مرکوز رہی، جن میں سیاسی اپوزیشن کو دبانا اور پاکستان کے اندر اپنے اختیار کے غیر معمولی ارتکاز کو یقینی بنانا شامل تھا۔ مگر گزشتہ ڈیڑھ برس میں ان کی شخصیت کا ایک مختلف رخ ابھر کر سامنے آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں انہوں نے خود کو ایک عالمی سفیر کے طور پر پیش کیا، اور واشنگٹن، ریاض اور تہران جیسے اہم دارالحکومتوں میں تعلقات مضبوط بنانے پر توجہ دی۔ 2025 کے اختتام تک وہ دو مرتبہ وائٹ ہاؤس جا چکے تھے، امریکا اور پاکستان کے درمیان کرپٹو اور معدنیات سے متعلق معاہدوں کی نگرانی کر چکے تھے، اور سعودی عرب کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ بھی طے پا چکا تھا۔

دی گارڈین کے مطابق امریکا کے ساتھ قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر ان کی موجودہ پوزیشن کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے ٹرمپ کی دوسری مدت کے دوران امریکا پاکستان تعلقات کو دوبارہ مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس میں لابنگ، حکمتِ عملی، ذاتی تعلقات، اور باہمی مفادات پر مبنی سودوں کا امتزاج شامل تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ انہوں نے ٹرمپ کو ابتدائی سفارتی کامیابیاں بھی فراہم کیں، جن میں بعض اہم دہشت گردوں کی امریکا حوالگی شامل تھی۔

اس کے بعد جب مئی 2025 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھی اور امریکا نے مداخلت کی، تو پاکستان نے کھلے لفظوں میں ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا، بلکہ انہیں نوبیل امن انعام کیلئے نامزد کرنے تک کی بات کی۔ دی گارڈین کے مطابق عاصم منیر نے اس تنازع میں کامیابی کے تاثر کو مؤثر انداز میں اپنے حق میں استعمال کیا، جس سے نہ صرف ان کی داخلی حیثیت مضبوط ہوئی بلکہ عالمی سطح پر بھی ان کی ساکھ میں اضافہ ہوا۔

چند ہی ماہ بعد عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس میں نجی ظہرانے کی دعوت دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات، جن میں تیل، معدنیات اور کرپٹو جیسے شعبے شامل تھے، اور ذاتی سفارتی انداز کے امتزاج سے امریکی صدر کو متاثر کیا۔ دی گارڈین کے مطابق ٹرمپ ان سے اس قدر متاثر ہوئے کہ جلد ہی انہیں دوبارہ اوول آفس مدعو کیا گیا، جہاں ان کے بارے میں غیر معمولی تعریفی کلمات بھی ادا کیے گئے۔

رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ عاصم منیر ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ رابطے کے طریقہ کار اور لہجے سے بھی خوب واقف ہیں۔ اگرچہ جنوری 2024 میں سرحد پار حملوں کے بعد اسلام آباد اور تہران کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا تھا، لیکن گزشتہ برس ان تعلقات میں خاصی بہتری آئی۔ دی گارڈین کے مطابق اس بہتری میں پاکستان کی جانب سے اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں اور بعد ازاں ایران پر بمباری کی واضح مذمت نے اہم کردار ادا کیا۔ رپورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پاکستان میں عوامی رائے، حتیٰ کہ سنی اکثریتی حلقوں میں بھی، بڑی حد تک ایران کے حق میں رہی ہے۔

سواس یونیورسٹی لندن میں بین الاقوامی تعلقات کے ریڈر اویناش پالیوال نے دی گارڈین سے گفتگو میں کہا کہ عاصم منیر کو ایک مشکل چیلنج درپیش تھا، مگر انہوں نے اسے بہت مہارت سے کھیلا، خاص طور پر ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ معاملہ کرنے اور شخصیت پر مبنی سفارت کاری کی اہمیت کو سمجھنے کے حوالے سے۔ ان کے مطابق فیلڈ مارشل منیر کی کمان میں قائم شخصی اور مرکزیت پسند نظام پاکستان کو یہ لچک دیتا ہے کہ وہ اس بحران میں ایک قابلِ اعتبار ثالث کا کردار ادا کر سکے۔

پالیوال کے مطابق پاکستان کی وسیع سفارتی مہم کا تمام کریڈٹ صرف ایک شخص کو نہیں دیا جانا چاہیے۔ دی گارڈین کے مطابق انہوں نے یاد دلایا کہ حکومت کے اہم وزرا بھی چین، سعودی عرب اور ترکی سمیت مختلف ممالک کے دورے کر کے اس معاہدے کو ممکن بنانے کیلئے سرگرم رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار محمد مہدی نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا کہ اگرچہ عاصم منیر صفِ اول میں ضرور رہے، مگر یہ ایک اجتماعی کوشش تھی، جس میں حکومت اور فوج دونوں کے مختلف حلقے شریک تھے۔

دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق ان مذاکرات کی کامیابی پر بہت کچھ منحصر ہے۔ ایک طرف فیلڈ مارشل منیر کی ذاتی ساکھ داؤ پر لگی ہے، تو دوسری طرف پاکستان کی وہ وسیع تر کوشش بھی، جس کے تحت وہ خود کو عالمی سطح پر ایک معتبر سفارتی ثالث کے طور پر منوانا چاہتا ہے، ایسا ملک جو ایران اور امریکا جیسے حریف فریقوں کو بھی بات چیت کی میز پر لا سکے۔ مگر اس سے بڑھ کر پاکستان کیلئے فوری مسئلہ یہ ہے کہ یہ جنگ جتنی طول پکڑے گی، اتنا ہی اس کے معاشی اور سلامتی سے متعلق اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے۔

اویناش پالیوال نے دی گارڈین سے کہا کہ اگر اس جنگ کے خاتمے کیلئے کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو بھی عاصم منیر کا کردار غالباً وہیں ختم نہیں ہو گا۔ ان کے مطابق اس کے بعد پاکستان خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں امن برقرار رکھنے کے ایک بڑے عملی کھلاڑی کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا شخص ہے جو سمجھتا ہے کہ آگے چل کر مشرقِ وسطیٰ کی جو بھی نئی سلامتی کی ساخت بنے گی، اس میں اس کا کردار زیادہ مضبوط ہو گا۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

spot_img

خبریں

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

More from The Thursday Times

error: