وائٹ ہاؤس نے پاکستان کو امریکا ایران سفارتی عمل کا مرکزی کردار قرار دے دیا

وائٹ ہاؤس نے پاکستان کو امریکا ایران سفارتی عمل کا مرکزی کردار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک نے مدد کی پیشکش کی تاہم مذاکراتی عمل میں ’’اسلام آباد ہی واحد ثالث ہے‘‘ جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجیح ہے کہ رابطہ پاکستان کے ذریعہ ہی جاری رکھا جائے۔

واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — وائٹ ہاؤس نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل میں پاکستان کو مرکزی کردار قرار دیا ہے۔ پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ پاکستان مذاکراتی عمل میں واحد ثالث ہے اور واشنگٹن چاہتا ہے کہ رابطہ کاری اِسی چینل کے ذریعہ جاری رہے۔

سفارتی معاملات میں، خصوصاً حساس مذاکرات کے دوران، اکثر ممالک عمومی طور پر ایک دوسرے کا شکریہ ادا کرتے ہیں لیکن کیرولین لیویٹ کے الفاظ غیر معمولی نوعیت کے ہیں۔ پاکستان کو ’’واحد ثالث‘‘ قرار دینا اور یہ واضح کرنا کہ رابطہ پاکستان کے ذریعہ ہی برقرار رکھا جائے، اِس بات کا اعلان ہے کہ امریکا اب اسلام آباد کو محض ایک معاون فریق نہیں بلکہ اِس پورے عمل کا مرکزی پُل سمجھتا ہے۔

یہ تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وائٹ ہاؤس نے اِس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ اُس نے باضابطہ طور پر کسی جنگ بندی میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کے امکانات برقرار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مذاکرات کا آئندہ ممکنہ دور بھی پاکستان میں ہی منعقد ہو سکتا ہے جو اِس بات کو مزید تقویت دیتا ہے کہ اسلام آباد پورے سفارتی عمل کا مرکز بن چکا ہے۔

اِس پیش رفت کی اہمیت اِس وجہ سے بھی زیادہ ہے کہ اِس نوعیت کے مذاکرات میں ثالثی کا کردار عموماً اِس قدر واضح انداز میں عوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے کُھلے الفاظ کے ساتھ اعتراف اِس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان نے واشنگٹن کا ایسا اعتماد حاصل کر لیا ہے جو اسلام آباد کو اِس حساس مرحلہ پر مرکزی و کلیدی رابطہ کار بنا رہا ہے۔ کیرولین لیویٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک نے اِس عمل میں مدد کی پیشکش کی، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجیح یہی ہے کہ رابطہ پاکستان کے ذریعہ ہی جاری رکھا جائے۔

یہ بیان پاکستان کی عالمی حیثیت کیلئے بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ برسوں سے اسلام آباد خود کو محض سیکیورٹی یا بحران کے تناظر سے ہٹ کر ایک مؤثر علاقائی سفارتی کردار کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے براہِ راست اور عوامی سطح پر پاکستان کے کردار کی اِس سطح پر توثیق اسلام آباد کے اِس دعویٰ کو نئی تقویت دیتی ہے۔

تاہم یہ اب بھی واضح نہیں کہ سفارتی عمل کسی حتمی معاہدے تک پہنچ پائے گا یا نہیں۔ امریکی انتظامیہ نے احتیاط سے کام لیتے ہوئے کسی پیش رفت کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا جبکہ کیرولین لیویٹ کے بیان میں بھی کسی معاہدے کے مکمل ہونے کا اعلان شامل نہیں تھا۔ لیکن اِس سے ایک بات ضرور واضح ہوئی ہے کہ فی الوقت یہ مذاکرات کس ڈھانچے کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں۔

واشنگٹن کے نزدیک پاکستان اب اِس عمل کے دوران وہ راستہ ہے جس کے ذریعہ یہ پورا سفارتی عمل آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اسلام آباد کیلئے بھی یہ ایک بڑی سفارتی خبر ہے۔ واشنگٹن کیلئے یہ اِس حقیقت کا اعتراف ہے کہ امریکا کی خارجہ پالیسی کے ایک نہایت حساس معاملہ میں پیش رفت کا انحصار، کسی حد تک ضرور، پاکستان کی اِس صلاحیت پر ہے کہ وہ فریقین کے درمیان رابطہ اور رفتار کو برقرار رکھ سکے۔

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

error: