تہران (تھرسڈے ٹائمز) — ایران کے سپریم لیڈر کے ایک سینئر مشیر نے جمعہ کے روز واشنگٹن کو دوٹوک انداز میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی ”امریکی تصورِ ریسکیو“ کی حقیقت کو بخوبی جانتے ہیں، اور اس کی مثالیں عراق، افغانستان اور غزہ سے دیتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ اگر امریکا محض سخت بیانات سے آگے بڑھ کر کسی عملی قدم کی طرف بڑھا تو اسے اس کے “نتائج” کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بیان علی شمخانی کی جانب سے اس کے بعد سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایرانی حکام پُرامن مظاہرین کو گولی ماریں یا انہیں ”پرتشدد طور پر“ ہلاک کریں تو امریکا مداخلت کرے گا، اور یہ بھی کہا کہ امریکا “لاکڈ اینڈ لوڈڈ ہے اور جانے کے لیے تیار ہے”، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ مداخلت کس مرحلے پر ہوگی یا اس کی نوعیت کیا ہوگی۔
جواباً شمخانی نے کہا کہ ایران کی سلامتی کے قریب آنے والا کوئی بھی “مداخلت پسند ہاتھ” “کاٹ دیا جائے گا”، اور ایران کی قومی سلامتی کو “ریڈ لائن” قرار دیا، جسے “لاپرواہ پوسٹس” کے لیے میدان نہیں بنایا جا سکتا۔
ایک اور سینئر ایرانی شخصیت علی لاریجانی نے بھی خبردار کیا کہ ایران کے اندرونی حالات میں امریکی شمولیت پورے خطے میں “افراتفری” پھیلائے گی اور امریکی مفادات کو خطرے میں ڈال دے گی، جبکہ انہوں نے احتجاج میں بیرونی ہاتھ کا الزام بھی لگایا، تاہم کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
یہ لفظی جنگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب معاشی مشکلات کے خلاف احتجاج ایران کے مختلف حصوں میں پھیلتا جا رہا ہے، سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں شدت کے ساتھ متعدد ہلاکتوں اور گرفتاریوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ وہ تشدد اور بدامنی کے خلاف سخت ردِعمل دے گی۔





