نئی دہلی (تھرسڈے ٹائمز) — بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی نے کہا ہے کہ آپریشن سندور کا نتیجہ بھارتی توقعات کے برعکس نکلا جس میں پاکستان کا پلڑا بھاری رہا جبکہ سٹریٹیجک پہل اب بڑی حد تک پاکستان کی عسکری قیادت کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے، پاک بھارت جنگ بندی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت سے ممکن ہوئی، بھارتی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول نے جنگ بندی کیلئے امریکی نائب صدر مارکو روبیو سے رابطہ کیا تھا۔
بھارت کے معروف دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن سندور کا بنیادی مقصد پاکستان کو قابو میں رکھنا تھا تاہم اِس کا نتیجہ الٹ نکلا جو بھارت کے ہی خلاف ٹابت ہوا، پاکستان کے مرعوب ہونے کے بجائے دباؤ زیادہ نمایاں طور پر بھارت کی طرف منتقل ہوا جس کے بعد خطہ میں ڈیٹرینس کے حوالہ سے ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔
پراوین ساہنی نے کہا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی میں پاکستان کا پلڑا بھاری ہونے کے بعد یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ سٹریٹیجک پہل اب بڑی حد تک پاکستان کی عسکری قیادت کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے اور آئندہ دونوں ممالک کے مابین کسی بھی کشیدگی کی نوعیت اور شدت اسی حقیقت کے مطابق طے ہو سکتی ہے۔
بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی کے مطابق مستقبل میں محاذ آرائی محدود روایتی سطح تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اِس میں آپریشنل سطح کی زیادہ منظم اور وسیع کارروائیاں شامل ہو سکتی ہیں۔
واشنگٹن کے کردار کے حوالہ سے پراوین ساہنی نے ایک اور اہم نکتہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ناخوش ہیں اور اسی وجہ سے آئندہ پاکستان اور بھارت میں درمیان کسی بھی بحران یا جھڑپ کی صورت میں ٹرمپ انتظامیہ کی ہمدردی بھارت کے بجائے پاکستان کی جانب ہو سکتی ہے جبکہ یہ تاثر خطہ میں سفارتی توازن کے حوالہ سے ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
آپریشن سندور کے دوران چین کے کردار کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ چین نے پاکستان کو نان کائنیٹک صلاحیتوں کے ذریعہ بھرپور معاونت فراہم کی جس کے باعث بھارت کو ایک ایسے محاذ کا سامنا کرنا پڑا جس میں دوسرے فریق کو تقویت حاصل تھی، اب مستقبل میں کسی بھی محاذ آرائی کی صورت میں پاکستانی فوج تکنیکی سطح کے بجائے آپریشنل سطح پر کارروائی کرتی دکھائی دے سکتی ہے جو ماضی کی نسبت بھارت کیلئے ایک غیر معمولی صورتحال ہو گی۔
پراوین ساہنی نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں جانب یہ تاثر ابھرا ہے کہ بھارت میں بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی) کے ادوارِ حکومت میں براہِ راست جنگ کیلئے بھارتی سیاسی عزم کمزور رہتا ہے اور یہی عنصر سٹریٹیجک ڈیٹرینس کے توازن پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
پاک بھارت جنگ بندی (سیز فائر) کے حوالہ سے پراوین ساہنی نے ایک واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت سے ہی ممکن ہوئی جس کے ’’واضح شواہد‘‘ موجود ہیں۔
بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی نے واضح انداز میں کہا کہ بھارتی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول نے جنگ بندی کرانے کیلئے امریکی نائب صدر مارکو روبیو سے رابطہ کیا تھا۔
پراوین ساہنی کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جنگ بندی کا کریڈٹ صدر ٹرمپ کو دینے سے گریزاں ہیں کیونکہ اِس سے داخلی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہو سکتا ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ براہِ راست مقابلہ کی پوزیشن میں نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ جنگ بندی کے پس منظر میں امریکی کردار سے متعلق بیانیہ اب بھی متنازع بنا ہوا ہے۔
پراوین ساہنی کے تجزیہ کا خلاصہ بیان کیا جائے تو آپریشن سندور محض ایک عسکری کارروائی نہ تھی بلکہ خطہ میں طاقت کے توازن، سفارتی صف بندی اور مستقبل کی ممکنہ محاذ آرائیوں کو متاثر کرنے والا ایک اہم موڑ تھا جس نے پاکستان کا پلڑا بھاری کر دیا ہے جبکہ دباؤ نمایاں طور پر بھارت کی جانب منتقل ہوا ہے۔




