دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے، ریاستی مؤقف دوٹوک اور غیر متزلزل ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی مشترکہ جدوجہد ہے، دہشت گردوں کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ پاکستان سے، اور ریاستی پالیسی واضح، غیر مبہم اور غیر متزلزل ہے۔ پاکستان اپنی سلامتی، خودمختاری اور مستقبل پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا، اور معرکہِ حق میں بھارت کو دیا گیا فیصلہ کن سبق اس عزم کا واضح ثبوت ہے۔

راولپنڈی (تھرسڈے ٹائمز) — پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی اس وقت ریاستِ پاکستان کو درپیش سب سے بڑا خطرہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ریاست، عوام اور تمام ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ سرگرمِ عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق میں بھارت کو فیصلہ کن جواب دیا گیا اور بھارت کے آپریشن سندور کی ناکامی کی کالک آج بھی اس کے چہرے سے نہیں اتری۔ سال 2025 دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ میں ایک تاریخی اور نتیجہ خیز سال ثابت ہوا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی پریس کانفرنس میں کہا کہ آج کی بریفنگ کا مقصد گزشتہ برس انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات، کامیابیوں اور چیلنجز کا جامع جائزہ پیش کرنا ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ صرف فوج کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے، جو دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے لڑی جا رہی ہے، اور ریاست اس جنگ میں کسی ابہام یا کمزوری کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے بتایا کہ افغان بارڈر بند کرنے کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی حکمتِ عملی، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور مربوط کاوشوں کے باعث دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر ہو چکی ہیں۔ قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دے گی اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا مؤقف قانونی، دفاعی اور غیر متزلزل ہے۔

اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گزشتہ برس ملک بھر میں 27 خودکش حملے ہوئے۔ مجموعی طور پر 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 658، بلوچستان میں 58 ہزار 778 جبکہ دیگر علاقوں میں 1 ہزار 739 آپریشنز شامل تھے۔ سال 2025 میں 2 ہزار 597 دہشت گرد مارے گئے، دہشت گردی کے 5 ہزار 397 واقعات رپورٹ ہوئے، اور اس جنگ میں 1 ہزار 235 اہلکاروں اور شہریوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی نے 2021 میں دوبارہ سر اٹھایا، اسی سال افغانستان میں تبدیلی آئی اور دوحہ معاہدہ ہوا۔ افغان گروپ نے دوحہ میں تین وعدے کیے تھے، جن میں افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے اور خواتین کی تعلیم کی یقین دہانی شامل تھی، مگر سوال یہ ہے کہ 2021 کے بعد ان وعدوں پر کتنا عمل ہوا؟ حقیقت یہ ہے کہ مختلف دہشت گرد تنظیمیں آج بھی افغانستان سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق افغانستان اس وقت پوری دنیا کے دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ وہ خود کو عبوری افغان حکومت کہتے ہیں مگر وہاں عملی طور پر کوئی مؤثر حکومتی رٹ موجود نہیں۔ القاعدہ، داعش، بی ایل اے، ٹی ٹی پی، فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کی تربیت گاہیں افغانستان میں موجود ہیں۔ پاکستان بارہا افغانستان کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا کہتا رہا، لیکن جب بات نہ بنی تو ریاستِ پاکستان نے اپنے دفاع میں گھنٹوں کے اندر افغان پوسٹس کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ یہ دہشت گرد خوارج اور فتنہ الہندوستان ہیں، جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ افغانستان خطے میں دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے اور وہاں ایک وار اکانومی کے تحت دہشت گردی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ فیک بیانیہ بنایا جاتا ہے کہ امریکا کو افغانستان سے بھگا دیا گیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی پورے خطے میں پھیل رہی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پولیس لائن مسجد پشاور کے خودکش حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پشاور کا دورہ کیا اور واضح الفاظ میں کہا کہ خوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، اور یہ اللہ کا حکم ہے کہ خوارج جہاں ملیں، ان کا قلع قمع کیا جائے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر افغانستان یا بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی کوشش کی گئی تو اکیلے ہوں یا اکٹھے، جس راستے سے بھی آئیں، انہیں بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا ہدف بھی ہے اور اس کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں بھی اسی نے دی ہیں، اسی لیے ریاستی بیانیہ واضح، دوٹوک اور غیر مبہم ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی پر مکمل عملدرآمد ہو رہا ہے، تاہم کاؤنٹر ٹیررازم کے شعبے میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ فوج، پولیس اور انٹیلی جنس اداروں نے گزشتہ برس مشترکہ اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت کارروائیاں کیں۔ دہشت گردی کے پیچھے واضح سیاسی محرکات، سہولت کاری اور منظم حکمتِ عملی موجود ہے، اور افغانستان میں کیے گئے سیاسی فیصلوں کے براہِ راست اثرات پاکستان کی سیکیورٹی پر پڑ رہے ہیں۔

انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ یہ جنگ صرف فوج کی ہے۔ دہشت گردوں کے اہداف میں بازار، اسکول، کالج، دفاتر اور رہائشی علاقے شامل ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ پوری قوم، ہر شہری اور ہر خاندان کی جنگ ہے۔ پاکستانی عوام، پولیس، فوج اور ایف سی کے شہداء نے پاکستان کے تحفظ اور مستقبل کے لیے ناقابلِ فراموش قربانیاں دی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان کی پالیسی ریاستِ پاکستان خود بناتی ہے، اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات وزارتِ خارجہ کی ہدایات کی روشنی میں طے کیے جاتے ہیں۔ کسی سیاسی جماعت سے بات چیت کرنا حکومت کا اختیار ہے، افواجِ پاکستان نے کبھی کسی سیاسی جماعت سے مذاکرات کی بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے حالات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ پاکستان کو ایک مضبوط اور خوددار ریاست بننا ہوگا اور اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہوگا، کیونکہ ہماری تقدیر ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ وسائل اصل مسئلہ نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ تھوڑے وسائل میں بھی برکت ڈال دیتا ہے۔ اگر معاملہ صرف پیسے کا ہوتا تو معرکۂ حق میں ایسا فیصلہ کن نتیجہ کبھی سامنے نہ آتا۔ بھارت کا دفاعی بجٹ پاکستان سے کئی گنا زیادہ ہے، مگر اصل طاقت وسائل نہیں بلکہ عزم، نیت اور مقصد کے ساتھ وابستگی ہے۔ اس کے لیے ایسی قیادت درکار ہے جو عوام کے وسائل کو واقعی عوام کی فلاح اور ترقی پر خرچ کرے، نہ کہ انہیں گمراہ کن بیانیوں میں الجھا دے۔

آخر میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر محاذ پر لڑے گا۔ ہم نے جنازے اٹھائے ہیں اور مزید جنازے اٹھانے کی ہمت بھی رکھتے ہیں، مگر ہم دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو پاکستان پر غالب نہیں آنے دیں گے۔ یہ ملک اللہ کا تحفہ اور معجزہ ہے، ہم حق پر کھڑے ہیں اور حق ہی غالب آئے گا۔

خبریں

More from The Thursday Times

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

error: