اسلام آباد (دی تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان اور بنگلہ دیش کی فضائی افواج کے سربراہان کے درمیان اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے ہی جن میں جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت اور دفاعی تعاون کے ایک جامع معاہدے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہوئیں جب پاکستان اپنی دفاعی برآمدات کو وسعت دینے اور بنگلہ دیش کے ساتھ تزویراتی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ان مذاکرات کا پس منظر گزشتہ برس مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپیں ہیں، جنہیں دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان تقریباً تین دہائیوں کی بدترین لڑائی قرار دیا جاتا ہے۔ ان واقعات میں پاکستانی فضائیہ کی کارکردگی کو اسلام آباد اپنی دفاعی صنعت کے لیے ایک اہم سفارتی اور تجارتی موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
پاکستانی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور بنگلہ دیش کے فضائیہ سربراہ حسن محمود خان کے درمیان ہونے والی بات چیت میں جے ایف-17 تھنڈر کی خریداری، تکنیکی صلاحیتوں اور آپریشنل تعاون پر گفتگو ہوئی۔ فوجی اعلامیے کے مطابق پاکستان نے بنگلہ دیش کو سپر مشاق ٹرینر طیاروں کی تیز تر فراہمی، مکمل تربیتی پروگرام اور طویل المدتی تکنیکی معاونت کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔
رائٹرز کے مطابق یہ مذاکرات پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں نمایاں بہتری کی عکاسی کرتے ہیں، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ اگست 2024 میں بنگلہ دیش میں بڑے عوامی احتجاج کے بعد اُس وقت کی وزیر اعظم شیخ حسینہ ملک چھوڑ کر بھارت چلی گئی تھیں، جس کے نتیجے میں ڈھاکہ اور نئی دہلی کے تعلقات شدید متاثر ہوئے۔
فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دورے نے دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو اجاگر کیا اور دفاعی تعاون کو گہرا کرنے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کی۔ شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 1971 کے بعد پہلی بار براہِ راست تجارت بحال ہوئی ہے، جبکہ عسکری قیادت کے درمیان رابطوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رائٹرز کے مطابق بنگلہ دیش اس وقت نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت کے تحت عام انتخابات کی تیاری کر رہا ہے، جو فروری میں متوقع ہیں، اور جن کے نتیجے میں ملکی سیاست میں اہم تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق جے ایف-17 تھنڈر پاکستانی دفاعی صنعت کا ایک کلیدی منصوبہ بن چکا ہے، جو آذربائیجان کے ساتھ معاہدوں اور لیبیا کی نیشنل آرمی کے ساتھ چار ارب ڈالر کے دفاعی پیکج کا حصہ ہے۔
منگل کے روز پاکستان کے وزیر دفاع نے کہا کہ ملکی دفاعی صنعت کی کامیابی پاکستان کی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے بقول، ہمارے طیارے عملی آزمائش سے گزر چکے ہیں اور ہمیں اتنے آرڈرز موصول ہو رہے ہیں کہ ممکن ہے پاکستان کو چھ ماہ میں آئی ایم ایف کی ضرورت ہی نہ رہے۔








